🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. باب الإِسْرَافِ فِي الْوَضُوءِ
باب: وضو میں اسراف و فضول خرچی یعنی پانی ضرورت سے زیادہ بہانا درست نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 96
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطَّهُورِ وَالدُّعَاءِ".
ابونعامہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کہتے سنا: اے اللہ! میں جب جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف کا سفید محل عطا فرما، آپ نے کہا: میرے بیٹے! تم اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 96]
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے (ایک بار) اپنے صاحبزادے کو دعا کرتے سنا (جو یوں کہہ رہا تھا): «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جب میں جنت میں داخل ہوں تو مجھے اس کی دائیں جانب سفید محل عنایت ہو۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹا! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور دوزخ سے پناہ مانگو۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو طہارت میں اور دعا مانگنے میں حد سے زیادہ مبالغہ کریں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 96]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الدعاء 12 (3864)، (تحفة الأشراف: 9664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: طہارت میں حد سے تجاوز کا مطلب یہ ہے کہ وضو، غسل یا آب دست میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول تحدید سے زیادہ بلا ضرورت پانی بہایا جائے، اور دعا میں حد سے تجاوز کا مطلب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں چھوڑ کر دوسروں کی تکلفات سے بھری، مقفی اورمسجّع دعائیں پڑھی جائیں، یا حد ادب سے تجاوز ہو، یا صلہ رحمی کے خلاف ہو، یا غیر شرعی خواہش ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (418)
ابو نعامه ھو قيس بن عبايه، سمع ابن عبدالله بن مغفل

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں