سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ
باب: پوری طرح اور مکمل وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 97
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى قَوْمًا وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ، فَقَالَ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کو اس حال میں دیکھا کہ وضو کرنے میں ان کی ایڑیاں (پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے) خشک تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کو بھگونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی آگ سے تباہی ہے وضو پوری طرح سے کرو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 97]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ (وضو میں جلدی کے باعث ان کے پاؤں خشک رہ گئے اور) ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ایسی) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے، وضو مکمل کیا کرو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 97]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطھارة 9 (241)، سنن النسائی/الطھارة 89 (111)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 55 (450)، مسند احمد (2/193، 201، 205، 211، 226)، (تحفة الأشراف: 8936)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 3 (60)، 30 (96)، بدون: ”أسبغوا ...“، (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایڑیاں اگر وضو میں خشک رہ جائیں گی تو جہنم میں جلائی جائیں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (241)