🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

134. فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر إيجاب الجنة للميت إذا شهد له رجلان من المسلمين بالخير
فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جنت اس میت کے لیے لازم ہوتی ہے جس کے لیے دو مسلمان خیر کی گواہی دیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3028
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ: أتيت المدينة وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ، فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبُهَا شَرًّا، فَقَالَ عُمَرُ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ أَبُو الأَسْوَدِ: وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُسْلِمٍ يَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ إِلا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ" قَالَ: قُلْنَا: وَثَلاثَةٌ قَالَ:" وَثَلاثَةٌ" قَالَ: فَقُلْنَا: وَاثْنَانِ قَالَ:" وَاثْنَانِ"، وَلَمْ نَسْأَلَهُ عَنِ الْوَاحِدِ .
ابوالاسود دِیلی بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا وہاں وباء پھیلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے بڑی تیزی سے اموات ہو رہی تھیں، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اس مرحوم کی اچھی تعریف بیان کی گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» واجب ہو گئی پھر ایک اور جنازہ گزرا اس مرحوم کی برائی بیان کی گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» واجب ہو گئی۔ ابوالاسود نے دریافت کیا: اے امیر المؤمنین! کیا چیز واجب ہو گئی؟ تو انہوں نے بتایا: یہ بالکل اسی طرح ہے، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: جس بھی مسلمان کے بارے میں چار افراد اچھائی کی گواہی دے دیں، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا، تو ہم نے عرض کی: اگر تین دے دیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تین دے دیں، تو بھی (یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا)۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اگر دو دے دیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دو دے دیں (تو بھی یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا)۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص کے بارے میں دریافت نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3028]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1368، 2643، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3028، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1933، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2072، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1059، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7285، 20451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 141» «رقم طبعة با وزير 3017»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (61): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں