صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
134. فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر إيجاب الجنة للميت إذا شهد له رجلان من المسلمين بالخير
فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جنت اس میت کے لیے لازم ہوتی ہے جس کے لیے دو مسلمان خیر کی گواہی دیں
حدیث نمبر: 3028
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ: أتيت المدينة وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ، فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبُهَا شَرًّا، فَقَالَ عُمَرُ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ أَبُو الأَسْوَدِ: وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُسْلِمٍ يَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ إِلا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ" قَالَ: قُلْنَا: وَثَلاثَةٌ قَالَ:" وَثَلاثَةٌ" قَالَ: فَقُلْنَا: وَاثْنَانِ قَالَ:" وَاثْنَانِ"، وَلَمْ نَسْأَلَهُ عَنِ الْوَاحِدِ .
ابواسود دیلی بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا وہاں وباء پھیلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے بڑی تیزی سے اموات ہو رہی تھیں میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اس مرحوم کی اچھی تعریف بیان کی گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہو گئی پھر ایک اور جنازہ گزرا اس مرحوم کی برائی بیان کی گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہو گئی۔ ابواسود نے دریافت کیا: اے امیر المؤمنین! کیا چیز واجب ہو گئی، تو انہوں نے بتایا: یہ بالکل اسی طرح ہے، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”جس بھی مسلمان کے بارے میں چار افراد اچھائی کی گواہی دے دیںاللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا، تو ہم نے عرض کی: اگر تین دے دیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تین دے دیں، تو بھی یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اگر دو دے دیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دو دے دیں (تو بھی یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا)“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص کے بارے میں دریافت نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3028]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3017»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (61): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3028 in Urdu
أبو الأسود الدؤلي ← عمر بن الخطاب العدوي