🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

59. باب الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ
باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 149
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْمُغِيرَةَ يَقُولُ:" عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدِهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ، فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ فِي الصَّلَاةِ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ حِينَ كَانَ وَقْتُ الصَّلَاةِ، وَوَجَدْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَصَلَّى وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ، فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ لِأَنَّهُمْ سَبَقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ: قَدْ أَصَبْتُمْ، أَوْ قَدْ أَحْسَنْتُمْ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں فجر سے پہلے مڑے، میں آپ کے ساتھ تھا، میں بھی مڑا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کی، پھر آئے تو میں نے چھوٹے برتن (لوٹے) سے آپ کے ہاتھ پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پہونچے دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر آستین سے دونوں ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبے کی آستین تنگ تھی اس لیے آپ نے ہاتھ اندر کی طرف کھینچ لیا، اور انہیں جبے کے نیچے سے نکالا، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا، اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر سوار ہو گئے، پھر ہم چل پڑے، یہاں تک کہ ہم نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا، ان لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو (امامت کے لیے) آگے بڑھا رکھا تھا، انہوں نے حسب معمول وقت پر لوگوں کو نماز پڑھائی، جب ہم پہنچے تو عبدالرحمٰن بن عوف فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ صف میں شریک ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی، پھر جب عبدالرحمٰن نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے، اور لوگ سبحان اللہ کہنے لگے، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نماز شروع کر دی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ان سے فرمایا: تم لوگوں نے ٹھیک کیا، یا فرمایا: تم لوگوں نے اچھا کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 149]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نماز فجر سے پہلے ایک مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے ایک جانب کو ہو گئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مڑ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کے لیے چلے گئے۔ واپس آئے تو میں نے لوٹے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے ہاتھ اور پھر چہرہ دھویا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو جبے کی آستینوں سے نکالنا چاہا مگر وہ تنگ تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ واپس آستین میں ڈال لیے اور انہیں جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں کہنیوں تک دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے اور چل دیے حتیٰ کہ ہم نے لوگوں کو نماز میں پایا اور وہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو (بطور امام) آگے کر چکے تھے۔ انہوں نے نماز پڑھائی جب کہ نماز کا وقت ہو گیا تھا، ہم نے پایا کہ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ انہیں نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہو گئے اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی۔ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے (نماز مکمل ہونے پر) سلام پھیرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ (یہ دیکھ کر) مسلمان گھبرا گئے اور بہت زیادہ تسبیح کہنے لگے، کیونکہ انہوں نے نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سبقت کی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: تم لوگوں نے درست کیا۔ یا کہا بہت اچھا کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 35(182)، 48 (203)، 49 (206)، المغازي 81 (4421)، اللباس 11 (5799)، صحیح مسلم/الطھارة 23 (274)، سنن النسائی/الطھارة 63 (79)، 66 (82)، 96 (124)، 97 (125)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 84 (545)، (تحفة الأشراف: 11514)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة 8 (41)، مسند احمد (4/ 249، 251، 254، 255)، سنن الدارمی/الطھارة 41 (740) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (274 بعد ح 421)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 150
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ نَاصِيَتَهُ، وَذَكَرَ فَوْقَ الْعِمَامَةِ"، قَالَ: عَنْ الْمُعْتَمِرِ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَعَلَى نَاصِيَتِهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ، قَالَ بَكْرٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اپنی پیشانی پر مسح کیا، مغیرہ نے عمامہ (پگڑی) کے اوپر مسح کا بھی ذکر کیا۔ ایک دوسری روایت میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں موزوں پر اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ (پگڑی) پر مسح کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 150]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک بار) وضو کیا (تو) اپنے سر کے اگلے حصے پر مسح کیا۔ ساتھ ہی یہ کہا: پگڑی پر بھی۔ جناب معتمر کی روایت میں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر، اپنے سر کے اگلے حصے اور اپنی پگڑی پر مسح کیا کرتے تھے۔ بکر کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت مغیرہ کے بیٹے سے براہ راست سنی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن الترمذی/الطہارة 74 (100)، سنن النسائی/الطہارة 87 (107)، (تحفة الأشراف: 11494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/255) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (274)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبِهِ وَمَعِي إِدَاوَةٌ، فَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَتَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ مِنْ جِبَابِ الرُّومِ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَضَاقَتْ فَادَّرَعَهُمَا ادِّرَاعًا، ثُمَّ أَهْوَيْتُ إِلَى الْخُفَّيْنِ لِأَنْزَعَهُمَا، فَقَالَ لِي: دَعِ الْخُفَّيْنِ، فَإِنِّي أَدْخَلْتُ الْقَدَمَيْنِ الْخُفَّيْنِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا"، قَالَ أَبِي: قَالَ الشَّعْبِيُّ: شَهِدَ لِي عُرْوَةُ عَلَى أَبِيهِ، وَشَهِدَ أَبُوهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند سواروں میں تھے اور میرے ساتھ ایک چھاگل (چھوٹا برتن) تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے پھر واپس آئے تو میں چھاگل لے کر آپ کے پاس پہنچا، میں نے آپ (کے ہاتھ) پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے اور چہرہ مبارک دھویا، پھر دونوں ہاتھ آستین سے نکالنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملک روم کے بنے ہوئے جبوں میں سے ایک جبہ زیب تن کئے ہوئے تھے، جس کی آستین تنگ و چست تھی، اس کی وجہ سے ہاتھ نہ نکل سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر ہی سے نکال لیا، پھر میں آپ کے پاؤں سے موزے نکالنے کے لیے جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: موزوں کو رہنے دو، میں نے یہ پاکی کی حالت میں پہنے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔ شعبی کہتے ہیں: یقیناً میرے سامنے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد سے اسے روایت کیا ہے اور یقیناً ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 151]
جناب عروہ اپنے والد سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تھے، میرے پاس پانی کا برتن تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی غرض سے نکلے، پھر ہماری جانب واپس آئے، تو میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر منہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو آستینوں سے نکالنا چاہے جبکہ آپ نے جبہ پہنا ہوا تھا، وہ رومی جبہ تھا اور اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو نہ نکل سکے، تو آپ نے جبے کے نیچے سے اپنے بازو نکالے۔ پھر میں جھکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتاروں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑو میں نے اپنے پاؤں ان میں ڈالے تو یہ دونوں طاہر تھے۔ پھر آپ نے موزوں پر مسح فرمایا۔ (عیسیٰ بن یونس نے) کہا کہ میرے والد (یونس بن ابی اسحاق) نے کہا کہ شعبی نے کہا: مجھے عروہ نے اپنے باپ (مغیرہ) کے متعلق گواہی دی اور اس کے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی۔ (اس توضیح سے مراد حدیث کی توثیق مزید ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظرحدیث رقم: 149، (تحفة الأشراف: 11514) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (206) صحيح مسلم (274)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 152
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ، قَالَ: فَأَتَيْنَا النَّاسَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُصَلِّ بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَمْضِيَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقَ بِهَا وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ عُمَرَ، يَقُولُونَ: مَنْ أَدْرَكَ الْفَرْدَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں لوگوں کی جماعت سے) پیچھے رہ گئے، پھر انہوں نے اسی واقعہ کا ذکر کیا۔ مغیرہ کہتے ہیں: جب ہم لوگوں کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، تو پیچھے ہٹنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز جاری رکھنے کا اشارہ کیا۔ مغیرہ کہتے ہیں: تو میں نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے ایک رکعت پڑھی، اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر وہ رکعت ادا کی جو رہ گئی تھی، اس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو سعید خدری، ابن زبیر، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: جو شخص امام کے ساتھ نماز کی طاق رکعت پائے، تو اس پر سہو کے دو سجدے ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 152]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قافلے کے ساتھیوں سے پیچھے ہو گئے اور مذکورہ بالا قصہ بیان کیا، اس میں ہے کہ پھر ہم لوگوں کے پاس آئے تو دیکھا کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں نماز فجر پڑھا رہے ہیں، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ فرمایا کہ جاری رہیں، چنانچہ میں نے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے ایک ایک رکعت پڑھی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فوت شدہ رکعت پڑھی اور اس پر کوئی اور اضافہ نہیں کیا (یعنی سجدہ سہو نہیں کیا)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری، ابن زبیر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہا کرتے تھے کہ جسے نماز کی ایک رکعت ملی ہو تو اس پر سہو کے دو سجدے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 11492) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: علامہ البانی نے اس اثر کو ضعیف کہا ہے، اس لئے اس سے استدلال درست نہیں ہے، جمہور نے اس کو رد کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس (تقدم: 29) وعنعن
والحديث السابق (الأصل: 149) يغني عنه
وآثار الصحابة لم أجدھا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 153
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَسْأَلُ بِلَالًا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَانَ يَخْرُجُ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَآتِيهِ بِالْمَاءِ فَيَتَوَضَّأُ، وَيَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَمُوقَيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ.
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت موجود تھے جب وہ بلال رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھ رہے تھے، بلال نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے تشریف لے جاتے، پھر میں آپ کے پاس پانی لاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور اپنے عمامہ (پگڑی) اور دونوں موق (جسے موزوں کے اوپر پہنا جاتا ہے) پر مسح کرتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 153]
جناب ابوعبدالرحمٰن سلمی روایت کرتے ہیں کہ وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے اور وہ بلال رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں دریافت کر رہے تھے، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے جاتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لے آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور اپنی پگڑی اور موزوں پر مسح کرتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوعبدالرحمٰن سے روایت کرنے والا ابوعبداللہ، بنی تیم بن مرہ کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 2049)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطھارة 23 (275)، سنن الترمذی/الطھارة 75 (100)، سنن النسائی/الطھارة 86 (105)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 89 (561)، مسند احمد (6/12، 13، 14، 15) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
صححه الحاكم (1/ 170، وسنده حسن) ووافقه الذهبي، وللحديث شواھد كثيرة جداً

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 154
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ دَاوُدَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، أَنَّ جَرِيرً بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَقَالَ:" مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَمْسَحَ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ؟ قَالُوا: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ، قَالَ: مَا أَسْلَمْتُ إِلَّا بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ".
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کہتے ہیں کہ جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا تو دونوں موزوں پر مسح کیا اور کہا کہ مجھے مسح کرنے سے کیا چیز روک سکتی ہے جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (موزوں پر) مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس پر لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہو گا؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد ہی اسلام قبول کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 154]
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے (ایک بار) پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا اور کہا: میرے لیے مسح سے کیا چیز مانع ہے؟ جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ مسح کا حکم ﴿سورة المائدة﴾ [سورة المائدة: 6] کے نزول سے پہلے کا ہے، تو سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو اسلام ہی ﴿سورة المائدة﴾ [سورة المائدة: 6] کے نزول کے بعد لایا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود (تحفة الأشراف: 3240)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 25 (387)، صحیح مسلم/الطھارة 22 (272)، سنن الترمذی/الطھارة 70 (94)، سنن النسائی/الطھارة 96 (118)، القبلة 23 (775)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 84 (543)، مسند احمد (4/358، 363، 364) (حسن)» ‏‏‏‏ (مؤلف کی سند سے حسن ہے، ورنہ اصل حدیث صحیحین میں بھی ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شواھد كثيرة عند البخاري (387) ومسلم (272) وغيرهما

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا"، قَالَ مُسَدَّدٌ، عَنْ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی (اصحمہ بن بحر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو سادہ سیاہ موزے ہدیے میں بھیجے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 155]
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ (بریدہ بن حصیب) راوی ہیں کہ نجاشی (والی حبشہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سیاہ رنگ کے دو سادہ موزے ہدیہ بھجوائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا تو ان پر مسح کیا۔ جناب مسدد نے (احمد بن شعیب کی روایت کے بالمقابل «حدثنا» کی بجائے «عن» سے روایت کی اور) «عن دلہم بن صالح» کہا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت اہل بصرہ کے تفردات میں سے ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 55 (2820)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 84 (549)، مسند احمد (5/352، (تحفة الأشراف: 1956) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2820)،ابن ماجه (549)
دلھم: ضعيف (تقريب التهذيب: 1830)
ولأصل الحديث شواھد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 156
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ حَيٍّ هُوَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم بھول گئے ہو، میرے رب نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 156]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جب اپنے) موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول رہے ہیں؟ فرمایا: (نہیں) بلکہ تم بھول رہے ہو۔ مجھے میرے رب نے اسی بات کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 11508)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/246، 253) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ”بکیر“ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بكير بن عامر: ضعيف،وقال الھيثمي: وضعفه جمهور الأئمة (مجمع الزوائد: 4/ 111)
وانظر : ح 3402
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں