🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

246. فصل في النياحة ونحوها - ذكر الزجر عن نياحة النساء على موتاهن
نوحہ اور اس جیسی دیگر باتوں کے بیان میں فصل - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ عورتیں اپنے مردوں پر نوحہ کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3147
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَذِهِ نِسَاءُ جَعْفَرٍ يَنُحْنَ عَلَيْهِ، وَقَدْ أَكْثَرْنَ بُكَاءَهُنَّ، قَالَ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ، فَمَكَثَ شَيْئًا ثُمَّ رَجَعَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ نَهَاهُنَّ، فَأَبَيْنَ أَنْ يُطِعْنَهُ، فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ، قَالَ: فَذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ غَلَبْنَهُ قَالَ:" فَاحْثُ فِي وُجُوهِهِنَّ التُّرَابَ" ، قَالَتْ عَمْرَةُ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ عِنْدَ ذَلِكَ: أَرْغَمَ اللَّهُ بِآنَافِهِنَّ، وَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی الله عنہ کے انتقال کی اطلاع آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غم کے اثرات نمایاں تھے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: سیدنا جعفر کے گھر کی خواتین ان پر نوحہ کر رہی ہیں اور بہت زیادہ رو رہی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ خواتین کو اس سے منع کر دے کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا اور یہ بات ذکر کی کہ اس نے انہیں منع کیا ہے، لیکن ان خواتین نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ یہ ہدایت کی کہ وہ انہیں منع کر دے۔ راوی کہتے ہیں: پھر اس نے آ کر یہ بات ذکر کی کہ وہ خواتین اس پر غالب آ گئی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ان کے چہرے پر مٹی ڈال دو۔ عمرہ نامی خاتون کہتی ہیں اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا:اللہ تعالیٰ ان خواتین کی ناک خاک آلود کرے اللہ کی قسم! تم اللہ کے رسول کو چھوڑتے بھی نہیں ہو اور جو (وہ تمہیں حکم دے رہے ہیں) اس پر عمل بھی نہیں کرتے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3137»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2734): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3148
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةِ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " تَسَلَّمِي ثَلاثًا، ثُمَّ اصْنَعِي بَعْدُ مَا شِئْتِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَسَلَّمِي ثَلاثًا" لَفْظَةُ أَمْرٍ قُرِنَتْ بِعَدَدٍ مَوْصُوفٍ قُصِدَ بِهِ الْحَسْمُ عَمَّا لا يَحِلُّ اسْتِعْمَالٌ فِي ذَلِكَ الْعَدَدِ، قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْنَعِي بَعْدُ مَا شِئْتِ" لَفْظَةُ أَمْرٍ قُصِدَ بِهِ الإبَاحَةُ فِي ظَاهِرِ الْخَطَّابِ، مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ اسْتِعْمَالِ مَا أَمَرَ بِهِ، يُرِيدُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ مَا وَصَفْتُ التَّسْلِيمَ لأَمْرِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي الأَيَّامِ الثَّلاثِ وَقَبْلَهَا وَبَعْدَهَا.
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم سونپ دو، اس کے بعد تم جو چاہو کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: تم تین دن تک سونپ دو۔ اس میں لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے، جو ایک عدد کے ساتھ موصوف ہے۔ اس چیز کے ذریعے مراد یہ ہے: اتنی تعداد میں جس چیز کا استعمال جائز نہیں ہے اس سے منع کیا جائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: تم اس کے بعد جو چاہو کرو۔ یہاں پر الفاظ امر کے ہیں۔ اس سے بظاہر یہ لگتا ہے: یہ اباحت کے لئے ہیں لیکن اس سے مراد اس چیز پر عمل کرنے سے منع کرنا ہے جس کا حکم دیا گیا ہے، تو ان الفاظ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: تم ان تین دنوں میں اور اس سے پہلے ان تمام امور کواللہ تعالیٰ کے حکم کو سونپ دو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3148]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3138»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3226).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں