🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

66. باب الرَّجُلِ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ
باب: آدمی ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھ سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ مُحَمَّدٌ هُوَ أَبُو أَسَدِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَكُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ".
عمرو بن عامر بجلی (محمد بن عیسیٰ کہتے ہیں: عمرو بن عامر بجلی ابواسد بن عمرو ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم لوگ ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 171]
جناب عمرو بن عامر بجلی یعنی ابو اسد محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، جبکہ ہم ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھ لیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطھارة 54 (214)، سنن الترمذی/الطھارة 44 (60)، سنن النسائی/الطھارة 101 (131)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 72 (509)، (تحفة الأشراف: 1110)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/132، 194، 260، سنن الدارمی/الطھارة 46 (747) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ہر نماز کے لیے تازہ وضو کیا کرتے تھے، تو یہ آپ کا غالب معمول تھا، ورنہ بعض مواقع پر آپ نے بھی ایک ہی وضو سے متعدد نمازیں پڑھی ہیں، جیسا کہ اگلی روایت حدیث ۱۷۲سے بھی واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (214)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 172
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ، قَالَ: عَمْدًا صَنَعْتُهُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا کیں، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں نے آج آپ کو وہ کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کبھی نہیں کرتے تھے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 172]
جناب سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن پانچوں نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے موزوں پر مسح بھی کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے دیکھا ہے کہ آج آپ نے ایک ایسا کام کیا ہے جو پہلے نہ کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 172]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطھارة 25 (277)، سنن الترمذی/الطھارة 45 (61)، سنن النسائی/الطھارة 101 (133)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 72 (510)، (تحفة الأشراف: 1928)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/350، 351، 358)، سنن الدارمی/الطھارة 3 (685) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھنے کا کام۔ تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ایک وضو سےمتعدد نمازیں نہیں پڑھی جا سکتیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (277)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں