🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. باب الْوُضُوءِ مِنَ الدَّمِ
باب: خون نکلنے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 198
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، فَأَصَابَ رَجُلٌ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَحَلَفَ أَنْ لَا أَنْتَهِيَ حَتَّى أُهَرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَقَالَ: مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا؟ فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: كُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ، اضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّ، وَأَتَى الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأَى شَخْصَهُ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةٌ لِلْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ حَتَّى رَمَاهُ بِثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ انْتَبَهَ صَاحِبُهُ، فَلَمَّا عَرِفَ أَنَّهُمْ قَدْ نَذِرُوا بِهِ هَرَبَ، وَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدَّمِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَلَا أَنْبَهْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَى؟ قَالَ: كُنْتَ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں نکلے، تو ایک مسلمان نے کسی مشرک کی عورت کو قتل کر دیا، اس مشرک نے قسم کھائی کہ جب تک میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کا خون نہ بہا دوں باز نہیں آ سکتا، چنانچہ وہ (اسی تلاش میں) نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم ڈھونڈتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چلا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، اور فرمایا: ہماری حفاظت کون کرے گا؟، تو ایک مہاجر اور ایک انصاری اس مہم کے لیے مستعد ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دونوں گھاٹی کے سرے پر رہو، جب دونوں گھاٹی کے سرے کی طرف چلے (اور وہاں پہنچے تو انہوں نے طے کیا کہ باری باری پہرہ دیں گے) تو مہاجر (صحابی) لیٹ گئے، اور انصاری کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے (اور ساتھ ساتھ پہرہ بھی دیتے رہے، نماز پڑھتے میں اچانک)، وہ مشرک آیا، جب اس نے (دور سے) اس انصاری کے جسم کو دیکھا تو پہچان لیا کہ یہی قوم کا محافظ و نگہبان ہے، اس کافر نے آپ پر تیر چلایا، جو آپ کو لگا، تو آپ نے اسے نکالا (اور نماز میں مشغول رہے)، یہاں تک کہ اس نے آپ کو تین تیر مارے، پھر آپ نے رکوع اور سجدہ کیا، پھر اپنے مہاجر ساتھی کو جگایا، جب اسے معلوم ہوا کہ یہ لوگ ہوشیار اور چوکنا ہو گئے ہیں، تو بھاگ گیا، جب مہاجر نے انصاری کا خون دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! آپ نے پہلے ہی تیر میں مجھے کیوں نہیں بیدار کیا؟ تو انصاری نے کہا: میں (نماز میں قرآن کی) ایک سورۃ پڑھ رہا تھا، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے بند کروں (ادھوری چھوڑوں) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 198]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نکلے یعنی غزوہ ذات الرقاع میں، تو کسی مسلمان نے مشرکین میں سے کسی کی بیوی کو قتل کر دیا، تو اس مشرک نے قسم کھائی کہ میں اصحابِ محمد میں خون بہا کر رہوں گا۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشانات کی پیروی کرنے لگا۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا اور فرمایا: کون ہمارا پہرہ دے گا؟ تو اس کام کے لیے ایک مہاجر اور ایک انصاری اٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دونوں اس گھاٹی کے دہانے پر کھڑے رہو۔ جب وہ دونوں اس کے دہانے کی طرف نکلے (تو انہوں نے طے کیا کہ باری باری پہرہ دیں گے) چنانچہ مہاجر لیٹ گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا (اور پہرہ بھی دیتا رہا)۔ ادھر سے وہ مشرک بھی آ گیا۔ جب اس نے ان کا سراپا دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ اس قوم کا پہریدار ہے، چنانچہ اس نے ایک تیر مارا اور اس کے اندر تول دیا۔ اس (انصاری) نے وہ تیر (اپنے جسم سے) نکال دیا (اور نماز میں مشغول رہا) حتیٰ کہ اس نے تین تیر مارے۔ پھر اس نے رکوع اور سجدہ کیا۔ ادھر اس کا (مہاجر) ساتھی بھی جاگ گیا۔ اس (مشرک) کو جب محسوس ہوا کہ ان لوگوں نے اس کو جان لیا ہے، تو وہ بھاگ نکلا۔ مہاجر نے جب انصاری کو دیکھا کہ وہ لہولہان ہو رہا ہے تو اس نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ! تم نے مجھے پہلے تیر ہی پر کیوں نہ جگا دیا؟ اس نے جواب دیا: میں ایک سورت پڑھ رہا تھا، میرا دل نہ چاہا کہ اسے ادھوری چھوڑوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 2497)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/343، 359) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زخم سے خون بہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا اور نہ نماز فاسد ہوتی ہے۔ جو لوگ خون کے بہنے سے وضو کے ٹوٹ جانے کے قائل ہیں، وہ ایک تو حیض اور استحاضے کے خون سے اور نکسیر کی بابت روایات سے استدلال کرتے ہیں جن میں نکسیر پھوٹنے کو بھی ناقص وضو بتلایا گیا ہے۔ حالانکہ حیض اور استحاضے کے خون کی حیثیت عام زخم سے بہنے والے خون سے یکسر مختلف ہے۔ اس لیے کہ ان کے تو احکام ہی مختلف ہیں۔علاوہ ازیں وہ خون جو شرمگاہوں سے نکلتا ہے جو بالاتفاق ناقص وضو ہے۔ جب کہ زخموں سے نکلنے والے خون کی یہ حیثیت نہیں۔ اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنگوں میں زخمی ہوتے رہے اور اسی حالت میں وہ نمازیں بھی پڑھتے رہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زخمی صحابہ کو نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ عام زخموں سے نکلنے والا خون ناقض وضو نہیں ہے۔ علاوہ ازیں نکسیر سے وضو کرنے والی روایات سے بھی استدلال کیا جاتا ہے، جو کہ سب کی سب ضعیف اور ناقابل حجت ہیں۔ (تفصیل دیکھیں عون المعبود)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں