🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

124. صدقة التطوع - ذكر البيان بأن الصدقة على الأقرب فالأقرب أفضل منها على الأبعد فالأبعد
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ قریبی رشتہ داروں پر صدقہ بعید رشتہ داروں پر صدقہ سے بہتر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3337
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ الْبَزَّازُ ، بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا لأَصْحَابِهِ: " تَصَدَّقُوا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ"، قَالَ: إِنَّ عِنْدِي آخَرَ، قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى زَوْجَتِكَ"، قَالَ:" إِنَّ عِنْدِي آخَرَ، قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ"، قَالَ: إِنَّ عِنْدِي آخَرَ، قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ"، قَالَ: إِنَّ عِنْدِي آخَرَ، قَالَ" أَنْتَ أَبْصَرُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے اصحاب سے فرمایا: تم لوگ صدقہ کرو۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس ایک دینار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو اپنے اوپر خرچ کرو۔ اس نے عرض کی کہ اگر میرے پاس ایک اور ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے اپنی بیوی پر خرچ کرو۔ اس نے عرض کی: اگر میرے پاس ایک اور ہو؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی اولاد پر خرچ کرو۔ اس نے عرض کی: اگر میرے پاس ایک اور ہو؟ تو فرمایا: تم اس کو اپنے خادم پر خرچ کرو۔ اس نے دریافت کیا: اگر میرے پاس ایک اور ہو؟ تو فرمایا: تم زیادہ سمجھ دار ہو۔ (یعنی تمہیں خود اندازہ ہو گا اسے کسی پر خرچ کرنا چاہیے)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3337]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3337، 4233، 4235، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1519، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2534، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1691، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15792، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7537» «رقم طبعة با وزير 3326»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (1484).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں