🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

147. صدقة التطوع - ذكر الأمر للعبد أن يتصدق من مال السيد على أن الأجر بينهما نصفان
نفلی صدقہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ غلام اپنے آقا کے مال سے صدقہ کرے تو اس کا اجر دونوں کے درمیان نصف نصف ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3360
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا، فَكُنْتُ أَتَصَدَّقُ بِلَحْمٍ مِنْ لَحْمِ مَوْلايَ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " تَصَدَّقْ وَالأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ: تَصَدَّقْ بِإِذْنِهِ، فَذِكْرُ الإِذْنِ فِيهِ مُضْمَرٌ، وَعُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ إِنَّمَا قِيلَ: آبِي اللَّحْمِ، لأَنَّهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ حَرَّمَ عَلَى نَفْسِهِ اللَّحْمَ، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ، فَقِيلَ: آبِي اللَّحْمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ هَذَا: هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ الْجُدْعَانِيُّ الْقُرَشِيُّ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، وَمُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفِيَانَ، رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ، وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ.
سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ جو سیدنا آبی لحم رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں غلام تھا، میں اپنے آقا کے گوشت میں سے کچھ گوشت صدقہ کر دیا کرتا تھا، میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم صدقہ کرو، اجر تم دونوں کے درمیان برابر برابر تقسیم ہو گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اس روایت میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ انہوں نے اپنے آقا کی اجازت کے تحت صدقہ کیا تھا، تو اجازت کا ذکر اس روایت میں پوشیدہ ہے۔ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ، سیدنا آبی لحم رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، یہ بات بیان کی گئی ہے۔ سیدنا آبی لحم رضی اللہ عنہ کا یہ نام اس لیے تھا کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں گوشت کھانا اپنے لیے حرام قرار دیا تھا اور گوشت کھانے سے انکار کر دیا تھا، اسی لیے انہیں «آبِي اللَّحْمِ» آبی لحم کہا جاتا تھا (یعنی گوشت سے انکار کرنے والا شخص)۔ محمد بن زید نامی راوی محمد بن زید بن مہاجر بن قنفر جدعانی قرشی ہیں، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع کیا ہے، جبکہ امام مالک اور اہل مدینہ نے ان کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3360]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3360، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7952» «رقم طبعة با وزير 3349»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (3/ 91).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں