🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

197. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من الشكر لمن أسدى إليه نعمة
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کی اطلاع جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ اس شخص کا شکر کرے جس نے اسے نعمت دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3414
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ فُلانًا يَشْكُرُ، ذَكَرَ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُ دِينَارَيْنِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكِنَّ فُلانًا قَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ الْعَشَرَةِ إِلَى الْمِئَةِ، فَمَا يَشْكُرُهُ وَلا يَقُولُهُ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَخْرُجُ مِنْ عِنْدِي لِحَاجَتِهِ مُتَأَبِّطَهَا، وَمَا هِيَ إِلا النَّارُ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ تُعْطِهِمْ؟ قَالَ:" يَأْبَوْنَ إِلا أَنْ يَسْأَلُونِي، وَيَأْبَى اللَّهُ لِيَ الْبُخْلَ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے فلاں شخص کو دیکھا ہے کہ وہ شکر گزار ہو رہا تھا، اس نے یہ بات ذکر کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو دینار عطا کیے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فلاں شخص کو؟ تو میں نے دس سے لے کر ایک سو کے درمیان ادائیگی کی تھی، اس نے تو اس کا شکریہ ادا نہیں کیا اور نہ ہی اس کا ذکر کیا، کوئی شخص میرے پاس سے اپنی ضرورت کے لیے کوئی چیز لے کر نکلتا ہے، جو اس نے بغل میں لی ہوتی ہے وہ چیز صرف جہنم ہوتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو دے کیوں دیتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مجھ سے مانگتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو میرا بخل منظور نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3414]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3414، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 103، 104، 119، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 144، والبزار فى (مسنده) برقم: 224، 235» «رقم طبعة با وزير 3405»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 8).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں