صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. باب فضل الصوم - ذكر البيان بأن الصوم لا يعدله شيء من الطاعات
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ روزہ دیگر طاعتوں سے بے مثل ہے
حدیث نمبر: 3425
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ"، فَغَزَوْنَا، فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا، حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ تَتْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ لِي بِالشَّهَادَةِ، فَقُلْتَ:" اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ"، فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمُرْنِي بِعَمَلٍ أَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، فَقَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لا مِثْلَ لَهُ" ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ لا يُرَى فِي بَيْتِهِ الدُّخَانُ نَهَارًا إِلا إِذَا نَزَلَ بِهِمْ ضَيْفٌ، فَإِذَا رَأَوَا الدُّخَانَ نَهَارًا، عَرَفُوا أَنَّهُ قَدِ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر تیار کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے شہادت کی دعا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ان لوگوں کو سلامت رکھنا اور انہیں مال غنیمت عطا کرنا۔ ہم لوگوں نے جنگ میں حصہ لیا ہم سلامت بھی رہے اور ہمیں مال غنیمت بھی مل گیا، یہاں تک کہ راوی نے تین مرتبہ یہ بات ذکر کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے شہادت کی دعا کیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! ان لوگوں کو سلامت رکھنا اور انہیں مال غنیمت بھی عطا کرنا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سلامت بھی رہے ہیں ہمیں مال غنیمت بھی مل گیا ہے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں حکم دیجئے جس کی وجہ سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پر روزہ رکھنا لازم ہے، کیونکہ اس کی مانند اور کوئی چیز نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے گھر سے دن کے وقت کبھی بھی دھواں نظر نہیں آتا تھا ماسوائے ایک دن کے جب ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہوتا تھا جب ان کے گھر دن کے وقت دھواں نظر آتا، تو لوگوں کو پتہ چل جاتا تھا کہ ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): مہدی بن میمون نے یہ روایت محمد بن ابویعقوب کے حوالے سے رجاء سے نقل کی ہے جبکہ شعبہ نے یہ روایت محمد بن ابویعقوب کے حوالے سے حمید بن ہلال کے حوالے رجاء سے نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3425]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3416»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق على «المختارة»» تحت الحديث (21).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث نمبر: 3426
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ الْهِلالِيَّ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ، قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لا عِدْلَ لَهُ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو نَصْرٍ هَذَا: هُوَ حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ، وَلَسْتُ أُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ بِطُولِهِ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ، وَسَمِعَ بَعْضَهُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر روزہ رکھنا لازم ہے، کیونکہ اس کے برابر اور کوئی چیز نہیں ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): ابونصر نامی یہ راوی حمید بن ہلال ہے۔ میں ایسا ہونے کا انکار نہیں کرتا کہ محمد بن ابویعقوب نے یہ روایت تفصیلی طور پر رجاء سے سنی ہو اور پھر انہوں نے اس کا کچھ حصہ حمید بن ہلال سے سنا ہو تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3426]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3417»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح