صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
63. باب آداب الصوم - ذكر الخبر الدال على أن قول الصائم لمن جهل عليه إني صائم إنما أمر أن يقول بقلبه دون النطق به
روزے کے آداب کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ صائم کو جہالت کرنے والے کے لیے "میں روزہ سے ہوں" دل سے کہنے کا حکم ہے، نہ کہ زبان سے
حدیث نمبر: 3483
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلانَ ، مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ، وَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ، فَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، وَإِنْ كُنْتَ قَائِمًا فَاجْلِسْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم روزہ رکھے ہوئے ہو، تو کسی کو برا نہ کہو اگر کوئی شخص تمہیں برا کہے، تو تم یہ کہہ دو کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے اور اگر تم کھڑے ہوئے ہو، تو بیٹھ جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3483]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3474»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «التعليق الرغيب» (2/ 97)، «صحيح ابن خزيمة» (3/ 241 / 1994).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي