صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
101. باب الكفارة
کفارہ کا بیان -
حدیث نمبر: 3523
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ الْمُبَارَكِ بْنِ الْهَيْثَمِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ، أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ، أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قَالَ: لا أَجِدُ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ، فَقَالَ:" خُذْ هَذَا، فَتَصَدَّقْ بِهِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحُوَجَ مِنِّي، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنِيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ:" كُلْهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ فِي هَذَا الْخَبَرِ، عَنِ الزُهْرِيِّ:" أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ، أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، إِلا مَالِكٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَقَوْلُ الرَّجُلِ: أَفْطَرْتُ، أَيْ: وَاقَعْتُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے رمضان میں روزہ توڑ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت کی کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اس نے کہا: میں اس میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور کا ٹوکرا لایا گیا آپ نے ارشاد فرمایا: اسے لو اور صدقہ کر دو۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملتا جو مجھ سے زیادہ (ان کا) محتاج ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے آپ نے ارشاد فرمایا: تم اسے کھا لو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں زہری کے حوالے سے امام مالک اور ابن جریج کے علاوہ اور کسی راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں۔ ”یا وہ دو ماہ کے روزے رکھ لے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔“ اس شخص کا یہ کہنا کہ میں نے روزہ توڑ لیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: میں نے (روزے کے دوران) صحبت کر لی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3523]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3514»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2071)، «الإرواء» (4/ 88 - 89): م، لكن قوله: «أو» في الكفارة شاذ، والمحفوظ كما في الرواية الآتية.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما