🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

102. باب الكفارة - ذكر البيان بأن النبي صلى الله عليه وسلم إنما أمر المجامع في شهر الصوم بصيام شهرين عند عدم القدرة على الرقبة وبإطعام ستين مسكينا عند عدم القدرة على الصوم لا أنه يخير بين هذه الأشياء الثلاثة
کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں جماع کرنے والے کو غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ ہونے پر دو ماہ کے روزوں اور روزوں کی طاقت نہ ہونے پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا، نہ کہ ان تینوں چیزوں میں سے انتخاب کی اجازت دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3524
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلَكَتُ، فَقَالَ:" وَمَا شَأْنُكَ؟"، قَالَ: وَقَعَتُ عَلَى امْرَأَتِي، قَالَ:" فَهَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ بِهِ رَقَبَةً؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" اجْلِسْ"، فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، وَهُوَ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ، قَالَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنِيَابُهُ، قَالَ:" خُذْهُ وَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نے (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس آزاد کرنے کے لیے غلام ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں (یہ ایک بڑا پیمانہ ہوتا ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے لو اور ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دو۔ اس نے جواب دیا: پورے شہر میں ہمارے گھر سے زیادہ غریب اور کوئی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے لو اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3524]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1936، 1937، 2600، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1111، وابن الجارود فى "المنتقى"، 421، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1943، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3523، 3524، 3525، 3526، 3527، 3529، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2390، والترمذي فى (جامعه) برقم: 724، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1671، 1671 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8136، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2303، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7063» «رقم طبعة با وزير 3515»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2068)، «الإرواء» -أيضا-: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں