صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
102. باب الكفارة - ذكر البيان بأن النبي صلى الله عليه وسلم إنما أمر المجامع في شهر الصوم بصيام شهرين عند عدم القدرة على الرقبة وبإطعام ستين مسكينا عند عدم القدرة على الصوم لا أنه يخير بين هذه الأشياء الثلاثة
کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں جماع کرنے والے کو غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ ہونے پر دو ماہ کے روزوں اور روزوں کی طاقت نہ ہونے پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا، نہ کہ ان تینوں چیزوں میں سے انتخاب کی اجازت دی
حدیث نمبر: 3524
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلَكَتُ، فَقَالَ:" وَمَا شَأْنُكَ؟"، قَالَ: وَقَعَتُ عَلَى امْرَأَتِي، قَالَ:" فَهَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ بِهِ رَقَبَةً؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" اجْلِسْ"، فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، وَهُوَ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ، قَالَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنِيَابُهُ، قَالَ:" خُذْهُ وَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے اس نے جواب دیا: میں نے (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس آزاد کرنے کے لیے غلام ہیں اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو۔ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو۔ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ پھر آپ کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں یہ ایک بڑا پیمانہ ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے لو اور ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دو۔ اس نے جواب دیا: پورے شہر میں ہمارے گھر سے زیادہ غریب اور کوئی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ آپ نے فرمایا: پھر تم اسے لو اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3524]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3515»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2068)، «الإرواء» -أيضا-: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما