🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

116. باب قبلة الصائم - ذكر الإخبار عن جواز تقبيل المرء أهله وهو صائم
روزہ دار کی قبلہ کے حوالے سے بات - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کے لیے اپنی اہلیہ کو بوسہ دینا جائز ہے جب وہ روزہ دار ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3538
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمِيَرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلْ هَذِهِ، أُمَّ سَلَمَةَ"، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ:" وَاللَّهِ إِنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَخْشَاكُمْ لَهُ" .
سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا روزہ دار شخص (بیوی کا) بوسہ لے سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کرنا۔ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کر لیا کرتے تھے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کی خشیت رکھتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3538]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1108، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3538، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8202، والطبراني فى(الكبير) برقم: 8294، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1923، 5140» «رقم طبعة با وزير 3530»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (4/ 84): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں