سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
103. باب فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنَ الْمَاءِ
باب: مرد اور عورت کے درمیان بہنے والے پانی کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنَ الْمَاءِ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ يَصُبُّ عَلَيَّ الْمَاءَ، ثُمَّ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ ثُمَّ يَصُبُّهُ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے نکلنے والی منی کے متعلق کہتی ہیں: (اگر وہ کپڑے یا جسم پر لگ جاتی تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چلو پانی لے کر لگی ہوئی منی پر ڈالتے، پھر ایک اور چلو پانی لیتے، اور اسے بھی اس پر ڈال لیتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 257]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جو پانی مرد و عورت کے درمیان بہتا ہے، اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کا ایک چلو لیتے، (اور) مجھ پر پانی ڈالتے (یا پانی، مذی یا منی پر ڈالتے) پھر دوسرا چلو لیتے اور اس کو اپنے اوپر ڈال لیتے (یا مزید اس کے اوپر بہا دیتے)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17812)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/153) (ضعیف)» (اوپر مذکور سبب سے یہ حدیث بھی ضعیف ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 256)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من بني سواءة: مجهول،(تقريب: 8518)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 22
إسناده ضعيف
رجل من بني سواءة: مجهول،(تقريب: 8518)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 22