🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. باب فيما يفيض بين الرجل والمرأة من الماء
باب: مرد اور عورت کے درمیان بہنے والے پانی کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنَ الْمَاءِ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ يَصُبُّ عَلَيَّ الْمَاءَ، ثُمَّ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ ثُمَّ يَصُبُّهُ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے نکلنے والی منی کے متعلق کہتی ہیں: (اگر وہ کپڑے یا جسم پر لگ جاتی تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چلو پانی لے کر لگی ہوئی منی پر ڈالتے، پھر ایک اور چلو پانی لیتے، اور اسے بھی اس پر ڈال لیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 257]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جو پانی مرد و عورت کے درمیان بہتا ہے، اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کا ایک چلو لیتے، (اور) مجھ پر پانی ڈالتے (یا پانی، مذی یا منی پر ڈالتے) پھر دوسرا چلو لیتے اور اس کو اپنے اوپر ڈال لیتے (یا مزید اس کے اوپر بہا دیتے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17812)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/153) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اوپر مذکور سبب سے یہ حدیث بھی ضعیف ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 256)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من بني سواءة: مجهول،(تقريب: 8518)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 22

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
0
👤←👥قيس بن وهب الهمداني
Newقيس بن وهب الهمداني ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← قيس بن وهب الهمداني
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا
Newيحيى بن آدم الأموي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة حافظ فاضل
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← يحيى بن آدم الأموي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
257
يأخذ كفا من ماء يصب علي الماء ثم يأخذ كفا من ماء ثم يصبه عليه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 257 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 257
257۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت ضعیف ہے تاہم مفہوم سمجھ لینا چاہیے۔ اس میں جملہ «يأخذ كفا من ماء يصب على الماء» کے لفظ «علي الماء» کو دو طرح پڑھا گیا ہے۔
(الف) «علي الماء» یعنی «عليٰ» حرف جر اور «ي» ضمیر متکلم مجرور اور «الماء» منصوب یصب سے مفعول بہ۔ اس صورت میں پانی سے مراد وہ پانی ہے جو مرد عورت کے درمیان (غسل کے دوران میں) بہتا اور ٹب میں گر جاتا ہے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کا ایک چلو لیتے اور مجھ پر ڈالتے پھر دوسرا چلو لیتے اور اپنے اوپر ڈال لیتے۔
دوسری صورت (ب) «علي الماء» ہے حرف جر کے ساتھ اس صورت میں «الماء» سے مراد مذی یا منی ہے۔ یعنی ایک چلو پانی لے کر (یعنی مذی یا منی) پر ڈالتے اور پھر دوسرا چلو لیتے اور مزید نظافت کے لیے اس پر بہا دیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنبی کے ہاتھ سے آنے والا پانی پاک ہے، اسی طرح اس سے اگر کوئی چھینٹے وغیرہ پڑیں، تو کوئی حرج نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 257]

Sunan Abi Dawud Hadith 257 in Urdu