🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

158. فصل في صوم الدهر - ذكر الخبر الدال على أن هذا الزجر إنما قصد به بعض الدهر لا الكل
ممنوع روزے کے بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ممانعت پورے سال کے بجائے بعض دنوں کے لیے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3582
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلانًا لا يُفْطِرُ نَهَارَاً الدَّهْرِ إِلا لَيْلاً، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا صَامَ وَلا أَفْطَرَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّفْظَةَ الَّتِي فِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو:" مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ"، أَرَادَ بِهِ الأَبَدَ وَفِيهِ الأَيَّامُ الَّتِي نُهِيَ عَنْهَا عَنْ صِيَامِهَا، مِثْلُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالْعِيدَيْنِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: فلاں شخص دن کے وقت کبھی افطاری نہیں کرتا صرف رات کے وقت کرتا ہے (یعنی روزانہ نفلی روزہ رکھ لیتا ہے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے نہ تو روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ وہ الفاظ جو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت میں ہیں: جس شخص نے ہمیشہ روزہ رکھا تو اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔ اس سے مراد ہمیشہ ایسا کرنا ہے اور اس میں وہ دن بھی آ جاتے ہیں جن میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے جیسے ایام تشریق اور عیدین کے دن۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3582]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3582، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1596، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2378، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2694، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20139» «رقم طبعة با وزير 3574»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق» -أيضا-.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں