🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

184. فصل في صوم يوم الجمعة - ذكر العلة التي من أجلها نهى عنه
جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اس سے منع کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3610
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو الأَوْبَرِ ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ:" إِنَّكَ نَهَيْتَ النَّاسَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: مَا نَهَيْتُ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّهُ يَوْمُ عِيدٍ إِلا أَنْ تَصِلُوهُ بِأَيَّامٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِأَيَّامٍ" يُرِيدُ بِهِ بَعْضَ الأَيَّامِ.
عبدالملک بن عمیر، جو بنو حارث بن کعب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: جن کا نام ابواوبر تھا۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: آپ نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے لوگوں کو جمعہ کے دن رزوہ رکھنے سے منع نہیں کیا بلکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ تم لوگ جمعہ کے دن روزہ نہ رکھو، کیونکہ یہ عید کا دن ہے، البتہ اگر تم اس کے ساتھ دوسرے دن کو ملا لو (تو حکم مختلف ہے) امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بایام اس سے مراد کوئی ایک دن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3610]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3601»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
شاذ بذكر العيد - «الضعيفة» (5344).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3611
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ يَوْمَ جُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ:" أَصُمْتِ أَمْسِ؟"، قَالَتْ: لا، قَالَ:" أَفَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟" قَالَتْ: لا، قَالَ:" فَأَفْطِرِي" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں جمعہ کے دن تشریف لائے۔ انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا کل تم نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کل تمہارا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر روزہ توڑ دو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3602»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق على «صحيح ابن خزيمة»» (2164)، «تمام المنة»: خ - جويرية.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں