صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
209. باب صوم التطوع - ذكر الاستحباب للمرء أن يصوم مرة ويفطر مرة
نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا استحباب کہ آدمی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے
حدیث نمبر: 3637
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، ثُمَّ يُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ، وَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلا قَلِيلا" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے معمول کے بارے میں دریافت کروں، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کسی مہینے میں) اتنے نفلی روزے رکھتے تھے کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ہی رکھتے رہیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی مہینے میں) نفلی روزے ترک کر دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے علاوہ اور کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے کچھ دنوں میں روزہ نہیں رکھتے تھے، باقی پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3637]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 730، 1147، 1159، 1969، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 738، ومالك فى (الموطأ) برقم: 394، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 49، 1102، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 353، 1578، 2430، 2571، 2613، 2616، 2634، 3516، 3637، 3648، 6385، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 761، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1340، 1341، 1350، 1361، 1368، والترمذي فى (جامعه) برقم: 439، 737، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1515، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 942، 1196، 1710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24707، والحميدي فى (مسنده) برقم: 173» «رقم طبعة با وزير 3629»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2103): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي