صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
210. باب صوم التطوع - ذكر الأمر بصيام نصف الدهر لمن قوي على أكثر من صيام أيام البيض
نفلی روزوں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص ایام بیض کے روزوں سے زیادہ پر قوی ہو وہ آدھے سال کا روزہ رکھے
حدیث نمبر: 3638
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الُوَلِيدِ الْكَرْخِيُّ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ، فَلا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، صَوْمُ الدَّهْرِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا" ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، يَقُولُ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ أَخَذْتُ الرُّخْصَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! مجھے پتہ چلا ہے کہ تم روزانہ نفلی روزہ رکھ لیتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو، تم ایسا نہ کرو، تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تمہاری جان کا تم پر حق ہے، تم (نفلی) روزہ رکھا بھی کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو، تم ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو، تو یہ ہمیشہ (یعنی پورا مہینہ) روزہ رکھنے کے مترادف ہو جائے گا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قوت کو پاتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم سیدنا داؤد علیہ السلام کے طریقے کے مطابق روزہ رکھو، تم ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن نہ رکھا کرو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کاش میں نے رخصت کو اختیار کر لیا ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3638]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، 1975، 1976، 1977، 1978، 1979، 1980، 3418، 3419، 3420، 5052، 5053، 5054، 5199، 6134، 6277، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159،وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، 756، 757، 758، 2590، 3571، 3581، 3638، 3640، 3658، 3660، 6226، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، برقم: 2343، برقم: 2376، برقم: 2377، برقم: 2387، برقم: 2388، برقم: 2389، برقم: 2390، برقم: 2391، برقم: 2392، برقم: 2393، برقم: 2394، برقم: 2395، برقم: 2396، برقم: 2397، برقم: 2398، برقم: 2399، برقم: 2400، برقم: 2401، برقم: 2402، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1329، 2665، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، 1390، 1391، 1394، 1395، 2427، 2448، والترمذي فى (جامعه) برقم: 770، 2946، 2947، 2949، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588، 6602» «رقم طبعة با وزير 3625»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
تنبيه!! هذا الحديث تكرر في «طبعة باوزير» في موضعين الموضع الأول (3625) وقال عنه الشيخ: صحيح - «صحيح أبي داود» (2098): ق. الموضع الثاني (3630) وقال عنه الشيخ: صحيح: ق - مضى (3625). أما في «طبعة المؤسسة» فلم يرد الحديث إلا في هذا الموضع لكن الحديث مكرر ولا فرق بينهما أبدا لا في الإسناد ولا في المتن ولا في العنوان أيضا. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح