سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
111. باب مَنْ قَالَ إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَدَعُ الصَّلاَةَ
باب: جب مستحاضہ کو حیض آ جائے تو وہ نماز چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ بُهَيَّةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ عَائِشَةَ عَنِ امْرَأَةٍ فَسَدَ حَيْضُهَا وَأُهْرِيقَتْ دَمًا،" فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آمُرَهَا فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحِيضُ فِي كُلِّ شَهْرٍ وَحَيْضُهَا مُسْتَقِيمٌ، فَلْتَعْتَدَّ بِقَدْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَيَّامِ، ثُمَّ لِتَدَعِ الصَّلَاةَ فِيهِنَّ أَوْ بِقَدْرِهِنَّ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ لِتُصَلِّي".
بہیہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت کے بارے میں جس کا حیض بگڑ گیا تھا اور خون برابر آ رہا تھا (مسئلہ) پوچھتے ہوئے سنا (ام المؤمنین عائشہ کہتی ہیں): تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اسے بتاؤں کہ وہ دیکھ لے کہ جب اس کا حیض صحیح تھا تو اسے ہر مہینے کتنے دن حیض آتا تھا؟ پھر اسی کے بقدر ایام شمار کر کے ان میں یا انہیں کے بقدر ایام میں نماز چھوڑ دے، غسل کرے، کپڑے کا لنگوٹ باندھے پھر نماز پڑھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 284]
بہیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت کو سنا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ رہی تھی کہ جس عورت کا نظام حیض خراب ہو گیا ہو اور اسے بہت زیادہ خون آتا ہو (تو وہ کیا کرے؟) تو (انہوں نے کہا): ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ میں اسے کہوں کہ اتنے دن انتظار کرے جتنے کہ ہر مہینے اسے حیض آتا تھا جبکہ اس کا حیض صحیح تھا، تو اس قدر ایام شمار کرے اور ان میں نماز چھوڑے رہے، پھر غسل کرے، کپڑے سے لنگوٹ باندھے اور نماز پڑھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17826) (ضعیف)» (اس کی سند میں واقع بہیَّہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بھية: لا تعرف (تقريب: 8547)
وأبو عقيل يحيي بن المتوكل: ضعيف (تقريب: 7633) وقال الھيثمي: وھو ضعيف عند الجمھور (مجمع الزوائد 5/ 53)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24
إسناده ضعيف
بھية: لا تعرف (تقريب: 8547)
وأبو عقيل يحيي بن المتوكل: ضعيف (تقريب: 7633) وقال الھيثمي: وھو ضعيف عند الجمھور (مجمع الزوائد 5/ 53)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي"، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ الْأَوْزَاعِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْكَلَامَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ غَيْرُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَرَوَاهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ، وَيُونُسُ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَمَعْمَرٌ،وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، وَابْنُ إِسْحَاقَ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْكَلَامَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَإِنَّمَا هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِيهِ أَيْضًا: أَمَرَهَا أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، وَهُوَ وَهْمٌ مِنَ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ الزُّهْرِيِّ، فِيهِ شَيْءٌ يَقْرُبُ مِنَ الَّذِي زَادَ الْأَوْزَاعِيُّ فِي حَدِيثِهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ رگ (کا خون) ہے، لہٰذا غسل کر کے نماز پڑھتی رہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں اوزاعی نے زہری سے، زہری نے عروہ اور عمرہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یوں اضافہ کیا ہے کہ: ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جب حیض آ جائے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھو۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اوزاعی کے علاوہ زہری کے کسی اور شاگرد نے یہ بات ذکر نہیں کی ہے، اسے زہری سے عمرو بن حارث، لیث، یونس، ابن ابی ذئب، معمر، ابراہیم بن سعد، سلیمان بن کثیر، ابن اسحاق اور سفیان بن عیینہ نے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے یہ بات ذکر نہیں کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ صرف ہشام بن عروہ کی حدیث کے الفاظ ہیں جسے انہوں نے اپنے والد سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابن عیینہ نے اس میں یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دینے کا حکم دیا، یہ ابن عیینہ کا وہم ہے ۱؎، البتہ محمد بن عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے زہری سے نقل کیا ہے کچھ ایسی چیز ہے، جو اوزاعی کے اضافہ کے قریب قریب ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 285]
جناب عروہ بن زبیر اور عمرہ، وہ دونوں ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، استحاضہ شروع ہو گیا اور سات سال تک رہا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ (کا خون) ہے، تو غسل کر اور نماز پڑھ۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ اوزاعی نے اس حدیث میں بہ سند «عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ» یہ اضافہ کیا کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ شروع ہو گیا اور یہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، انہیں سات سال تک یہ عارضہ رہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ”جب حیض آ جائے تو نماز چھوڑ دو اور جب ختم ہو جائے تو غسل کرو اور نماز پڑھو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ جملہ «إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي» ”جب حیض شروع ہو جائے تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض ختم ہو جائے تو غسل کرو اور نماز پڑھو“ زہری کے شاگردوں میں سے اوزاعی کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا ہے۔ اس روایت کو زہری سے عمرو بن حارث، لیث، یونس، ابن ابی ذئب، معمر، ابراہیم بن سعد، سلیمان بن کثیر، ابن اسحاق اور سفیان بن عیینہ نے روایت کیا ہے، مگر یہ حضرات یہ جملہ ذکر نہیں کرتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ لفظ صرف ہشام بن عروہ نے بواسطہ اپنے والد، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیے ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن عیینہ نے یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ آپ نے اسے حکم دیا: ”اپنے حیض کے ایام میں نماز چھوڑ دے۔“ اور یہ ابن عیینہ کا وہم ہے۔ اور محمد بن عمرو عن زہری کی روایت میں بھی کچھ (وہم) ہے (جو اس کے بعد آ رہی ہے) اور یہ اسی کے قریب قریب ہے جو اوزاعی نے اپنی حدیث میں اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 27 (327)، صحیح مسلم/الحیض 14(334)، سنن النسائی/الطہارة 135 (211)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 115 (626) (تحفة الأشراف: 17922، 16572) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوداؤد کا یہ قول حدیث نمبر ۲۸۱ میں گزر چکا ہے۔
۲؎: اس حدیث کو مختلف رواۃ نے متعدد طریقے اور الفاظ سے روایت کیا ہے اس سے اصل مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مستحاضہ حیض کے دنوں میں نماز نہیں پڑھے گی اور ان مخصوص ایام کے گزر جانے کے بعد وہ غسل کر کے ہر نماز کے لئے نیا وضو کرے اور شرمگاہ پرلنگوٹ کس کر نماز پڑھا کرے گی، یا پھر دو دو نماز کے لئے ایک بار وضو کرے گی۔
۲؎: اس حدیث کو مختلف رواۃ نے متعدد طریقے اور الفاظ سے روایت کیا ہے اس سے اصل مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مستحاضہ حیض کے دنوں میں نماز نہیں پڑھے گی اور ان مخصوص ایام کے گزر جانے کے بعد وہ غسل کر کے ہر نماز کے لئے نیا وضو کرے اور شرمگاہ پرلنگوٹ کس کر نماز پڑھا کرے گی، یا پھر دو دو نماز کے لئے ایک بار وضو کرے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (327) صحيح مسلم (334)
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضَةِ، فَإِنَّهُ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي، فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، مِنْ كِتَابِهِ هَكَذَا، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ بَعْدُ حِفْظًا، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَى أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، قَالَ: إِذَا رَأَتِ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ فَلَا تُصَلِّي، وَإِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ وَلَوْ سَاعَةً فَلْتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي، وقَالَ مَكْحُولٌ: إِنَّ النِّسَاءَ لَا تَخْفَى عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَةُ، إِنَّ دَمَهَا أَسْوَدُ غَلِيظٌ، فَإِذَا ذَهَبَ ذَلِكَ وَصَارَتْ صُفْرَةً رَقِيقَةً، فَإِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَرَكَتِ الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتِ اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ، وَرَوَى سُمَيٌّ وَغَيْرُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، الْحَائِضُ إِذَا مَدَّ بِهَا الدَّمُ تُمْسِكُ بَعْدَ حَيْضَتِهَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ، وقَالَ التَّيْمِيُّ , عَنْ قَتَادَةَ، إِذَا زَادَ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا خَمْسَةُ أَيَّامٍ، فَلْتُصَلِّ، وقَالَ التَّيْمِيُّ: فَجَعَلْتُ أَنْقُصُ حَتَّى بَلَغَتْ يَوْمَيْنِ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمَيْنِ فَهُوَ مِنْ حَيْضِهَا، وسُئِلَ ابْنُ سِيرِينَ عَنْهُ، فَقَالَ: النِّسَاءُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے جو پہچان لیا جاتا ہے، جب یہ خون آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب اس کے علاوہ خون ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو، کیونکہ یہ رگ (کا خون) ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مثنی کا بیان ہے کہ ابن ابی عدی نے اسے ہم سے اپنی کتاب سے اسی طرح بیان کی ہے پھر اس کے بعد انہوں نے ہم سے اسے زبانی بھی بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا ہے، انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انس بن سیرین نے مستحاضہ کے سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب وہ گاڑھا کالا خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب پاکی دیکھے (یعنی کالا خون کا آنا بند ہو جائے) خواہ تھوڑی ہی دیر سہی، تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ اور مکحول نے کہا ہے کہ عورتوں سے حیض کا خون پوشیدہ نہیں ہوتا، اس کا خون کالا اور گاڑھا ہوتا ہے، جب یہ ختم ہو جائے اور زرد اور پتلا ہو جائے، تو وہ (عورت) مستحاضہ ہے، اب اسے غسل کر کے نماز پڑھنی چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مستحاضہ کے بارے میں حماد بن زید نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے قعقاع بن حکیم سے، قعقاع نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ جب حیض آئے تو نماز ترک کر دے، اور جب حیض آنا بند ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھے۔ سمیّ وغیرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ وہ ایام حیض میں بیٹھی رہے (یعنی نماز سے رکی رہے)۔ ایسے ہی اسے حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور یونس نے حسن سے روایت کی ہے کہ حائضہ عورت کا خون جب زیادہ دن تک جاری رہے تو وہ اپنے حیض کے بعد ایک یا دو دن نماز سے رکی رہے، پھر وہ مستحاضہ ہو گی۔ تیمی، قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب اس کے حیض کے دنوں سے پانچ دن زیادہ گزر جائیں، تو اب وہ نماز پڑھے۔ تیمی کا بیان ہے کہ میں اس میں سے کم کرتے کرتے دو دن تک آ گیا: جب دو دن زیادہ ہوں تو وہ حیض کے ہی ہیں۔ ابن سیرین سے جب اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا: عورتیں اسے زیادہ جانتی ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 286]
جناب عروہ بن زبیر، فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ انہیں (فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو) استحاضہ آتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب خون حیض کا ہو جو کہ سیاہ رنگ کا ہوتا ہے اور پہچانا جاتا ہے، تو جب یہ آئے تو نماز سے رکی رہو اور جب دوسرا ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو، یہ ایک رگ ہوتی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ محمد بن مثنیٰ نے کہا کہ ابن ابی عدی نے ہمیں اپنی کتاب سے ایسے ہی بیان کیا (یعنی عروہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مابین کوئی واسطہ نہیں تھا) اور بعد میں جب اپنے حفظ سے روایت کیا تو اس سند میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ فاطمہ کو استحاضہ آتا تھا، پھر اوپر والی روایت کے ہم معنی بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ انس بن سیرین نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مستحاضہ کے بارے میں بیان کیا: ”جب وہ خوب گہرا سرخ خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب طہر محسوس کرے، اگرچہ ایک گھڑی ہی ہو، تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔“ مکحول رحمہ اللہ نے کہا ہے: ”عورتوں کے لیے حیض کا معاملہ پوشیدہ نہیں ہوتا، یہ خون سیاہ اور گاڑھا ہوتا ہے، جب یہ ختم ہو جائے، گاڑھا نہ رہے اور زرد رنگ ہو جائے تو یہ استحاضہ ہوتا ہے، تو چاہیے کہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ حماد بن زید نے بسندِ یحییٰ بن سعید، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مستحاضہ کے بارے میں روایت کیا ہے: ”جب اسے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب ختم ہو جائے تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔“ سمی اور کچھ دوسروں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے: ”(مستحاضہ) اپنے حیض کے ایام میں بیٹھی رہے۔“ ایسے ہی حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن سعید کے واسطہ سے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ یونس رحمہ اللہ، حسن بصری رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں: ”حیض والی کا خون جب طول پکڑ جائے تو حیض کے بعد ایک دو دن تک دیکھے (اگر رک جائے تو بہتر) ورنہ یہ استحاضہ ہے۔“ تیمی رحمہ اللہ نے قتادہ رحمہ اللہ سے بیان کیا: ”جب اس کے ایامِ حیض پر پانچ دن زیادہ ہو جائیں تو نماز پڑھنا شروع کر دے۔“ تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں دنوں کو کم کرتے کرتے دو دن تک پہنچا تو انہوں نے کہا: ”اگر (معروف ایام سے) دو دن زیادہ ہو جائیں تو یہ حیض ہی کے ہوں گے۔“ ابن سیرین رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”عورتوں کو اس کا بخوبی علم ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطہارة 135 (211) (تحفة الأشراف: 18019،16626) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (216) ويأتي (304)
الزھري عنعن (تقدم: 145)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24
إسناده ضعيف
نسائي (216) ويأتي (304)
الزھري عنعن (تقدم: 145)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24
حدیث نمبر: 287
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَغَيْرُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ، فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَقُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَمَا تَرَى فِيهَا قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ؟ فَقَالَ: أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ، فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ، قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَاتَّخِذِي ثَوْبًا، فَقَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ، أَيَّهُمَا فَعَلْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ، قَالَ لَهَا: إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي، فَإِنَّ ذَلِكَ يَجْزِيكِ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي فِي كُلِّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَتُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، فَافْعَلِي، وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ، فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَدِرْتِ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: فَقَالَتْ حَمْنَةُ: فَقُلْتُ: هَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ، لَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَهُ كَلَامَ حَمْنَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ رَافِضِيٌّ رَجُلُ سُوءٍ، وَلَكِنَّهُ كَانَ صَدُوقًا فِي الْحَدِيثِ، وَثَابِتُ بْنُ الْمِقْدَامِ رَجُلٌ ثِقَةٌ، وَذَكَرَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ، يَقُولُ: حَدِيثُ ابْنِ عَقِيلٍ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ.
حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے استحاضہ کا خون کثرت سے آتا تھا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے مسئلہ پوچھنے، اور آپ کو اس کی خبر دینے آئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے گھر پایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بہت زیادہ خون آتا ہے، اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس نے مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں (شرمگاہ پر) روئی رکھنے کا مشورہ دیتا ہوں، کیونکہ اس سے خون بند ہو جائے گا“، حمنہ نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لنگوٹ باندھ کر اس کے نیچے کپڑا رکھ لو“، انہوں نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، بہت تیزی سے نکلتا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں، ان دونوں میں سے جس کو بھی تم اختیار کر لو وہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اگر تمہارے اندر دونوں پر عمل کرنے کی طاقت ہو تو تم اسے زیادہ جانتی ہو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ تو شیطان کی لات ہے، لہٰذا تم (ہر ماہ) اپنے آپ کو چھ یا سات دن تک حائضہ سمجھو، پھر غسل کرو، اور جب تم اپنے آپ کو پاک و صاف سمجھ لو تو تیئس یا چوبیس روز نماز ادا کرو اور روزے رکھو، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور جس طرح عورتیں حیض و طہر کے اوقات میں کرتی ہیں اسی طرح ہر ماہ تم بھی کر لیا کرو، اور اگر تم ظہر کی نماز مؤخر کرنے اور عصر کی نماز جلدی پڑھنے پر قادر ہو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو جمع کر لو اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء میں جلدی کرو اور غسل کر کے دونوں نماز کو ایک ساتھ ادا کرو، اور ایک نماز فجر کے لیے غسل کر لیا کرو، تو اسی طرح کرو، اور روزہ رکھو، اگر تم اس پر قادر ہو“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں باتوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمرو بن ثابت نے ابن عقیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے، انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں بلکہ حمنہ رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ثابت رافضی برا آدمی ہے، لیکن حدیث میں صدوق ہے- اور ثابت بن مقدام ثقہ آدمی ہیں- ۱؎، اس کا ذکر انہوں نے یحییٰ بن معین کے واسطے سے کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا: ابن عقیل کی حدیث کے بارے میں میرے دل میں بے اطمینانی ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 287]
عمران بن طلحہ اپنی والدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، حمنہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ مجھے بہت زیادہ اور بڑا سخت استحاضہ ہوتا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حالت بتاؤں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے گھر میں پایا۔ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں جسے بہت سخت، شدید استحاضہ ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ اس نے مجھے نماز اور روزے سے بھی روک رکھا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم روئی رکھ لیا کرو، اس سے خون رک جائے گا۔“ اس (حمنہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: ”یہ اس سے زیادہ ہوتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر کپڑا باندھ لیا کرو۔“ میں نے کہا: ”یہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے، میری تو دھار بہتی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں دو باتیں بتاتا ہوں ان میں سے جو بھی اختیار کر لو کافی ہے۔ اگر دونوں کی ہمت ہو تو یہ تمہیں معلوم ہو گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”یہ دراصل شیطانی کچوکا ہے۔ پس تم (ہر مہینے) اللہ کے علم کے مطابق چھ یا سات دن حیض کے شمار کرو، پھر غسل کر لو حتیٰ کہ جب تم اپنے آپ کو پاک صاف سمجھو تو تئیس یا چوبیس دن رات نماز پڑھتی رہو اور روزے رکھو۔ تمہیں یہ کافی ہے اور ہر مہینے ویسے ہی کیا کرو جیسے کہ عام عورتیں اپنے حیض اور طہر کے دنوں میں کرتی ہیں۔ (دوسری صورت) اور اگر ہمت ہو تو ظہر کو مؤخر اور عصر کو جلدی کر کے ان دونوں کو جمع کر لو اور ان کے لیے ایک غسل کرو۔ پھر مغرب کو مؤخر اور عشاء کو جلدی کرتے ہوئے ایک غسل کر لو اور ان نمازوں کو جمع کر کے پڑھ لو۔ اور فجر کی نماز کے لیے (بھی) غسل کر لو۔ اگر تم یہ کر سکتی ہو تو کر لیا کرو اور روزے بھی رکھتی جاؤ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ (دوسری) صورت ان دونوں میں سے میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس روایت کو عمرو بن ثابت نے ابن عقیل سے نقل کیا اور کہا: حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”یہ صورت میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔“ اس قول کو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں بتایا، بلکہ حمنہ رضی اللہ عنہا کا قول کہا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”عمرو بن ثابت رافضی تھا اور یہ قول یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے ذکر کیا۔ (لیکن وہ حدیث میں صدوق (سچا) تھا۔)“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے سنا، کہتے تھے کہ ابن عقیل کی حدیث کے بارے میں میرے دل میں کچھ (تردد) ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 95 (128)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 115 (622، 627) (تحفة الأشراف: 15821)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/439، سنن الدارمی/الطھارة 83 (812) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: ثابت بن مقدام کا تذکرہ مؤلف نے برسبیل تذکرہ عمرو بن ثابت بن ابی المقدام کی وجہ سے کر دیا ہے، ورنہ یہاں کسی سند میں ان کا نام نہیں آیا ہے، عمرو بن ثابت کو حافظ ابن حجر نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔
۲؎: لیکن بتصریح ترمذی امام بخاری نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے حتی کہ امام احمد نے بھی اس کی تحسین کی ہے، حافظ ابن القیم نے اس پر مفصل بحث کی ہے، اس کی تائید حدیث نمبر: (۳۹۴) سے بھی ہو رہی ہے۔
۲؎: لیکن بتصریح ترمذی امام بخاری نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے حتی کہ امام احمد نے بھی اس کی تحسین کی ہے، حافظ ابن القیم نے اس پر مفصل بحث کی ہے، اس کی تائید حدیث نمبر: (۳۹۴) سے بھی ہو رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن لم يجعله من قول النبي صلى الله عليه وسلم جعله كلام حمنة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (128)،ابن ماجه (622،627)
ابن عقيل: ضعيف (تقدم: 128)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24
إسناده ضعيف
ترمذي (128)،ابن ماجه (622،627)
ابن عقيل: ضعيف (تقدم: 128)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24