پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
111. باب من قال إذا أقبلت الحيضة تدع الصلاة
باب: جب مستحاضہ کو حیض آ جائے تو وہ نماز چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضَةِ، فَإِنَّهُ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي، فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، مِنْ كِتَابِهِ هَكَذَا، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ بَعْدُ حِفْظًا، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَى أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، قَالَ: إِذَا رَأَتِ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ فَلَا تُصَلِّي، وَإِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ وَلَوْ سَاعَةً فَلْتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي، وقَالَ مَكْحُولٌ: إِنَّ النِّسَاءَ لَا تَخْفَى عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَةُ، إِنَّ دَمَهَا أَسْوَدُ غَلِيظٌ، فَإِذَا ذَهَبَ ذَلِكَ وَصَارَتْ صُفْرَةً رَقِيقَةً، فَإِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَرَكَتِ الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتِ اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ، وَرَوَى سُمَيٌّ وَغَيْرُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، الْحَائِضُ إِذَا مَدَّ بِهَا الدَّمُ تُمْسِكُ بَعْدَ حَيْضَتِهَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ، وقَالَ التَّيْمِيُّ , عَنْ قَتَادَةَ، إِذَا زَادَ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا خَمْسَةُ أَيَّامٍ، فَلْتُصَلِّ، وقَالَ التَّيْمِيُّ: فَجَعَلْتُ أَنْقُصُ حَتَّى بَلَغَتْ يَوْمَيْنِ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمَيْنِ فَهُوَ مِنْ حَيْضِهَا، وسُئِلَ ابْنُ سِيرِينَ عَنْهُ، فَقَالَ: النِّسَاءُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے جو پہچان لیا جاتا ہے، جب یہ خون آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب اس کے علاوہ خون ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو، کیونکہ یہ رگ (کا خون) ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مثنی کا بیان ہے کہ ابن ابی عدی نے اسے ہم سے اپنی کتاب سے اسی طرح بیان کی ہے پھر اس کے بعد انہوں نے ہم سے اسے زبانی بھی بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا ہے، انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انس بن سیرین نے مستحاضہ کے سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب وہ گاڑھا کالا خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب پاکی دیکھے (یعنی کالا خون کا آنا بند ہو جائے) خواہ تھوڑی ہی دیر سہی، تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ اور مکحول نے کہا ہے کہ عورتوں سے حیض کا خون پوشیدہ نہیں ہوتا، اس کا خون کالا اور گاڑھا ہوتا ہے، جب یہ ختم ہو جائے اور زرد اور پتلا ہو جائے، تو وہ (عورت) مستحاضہ ہے، اب اسے غسل کر کے نماز پڑھنی چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مستحاضہ کے بارے میں حماد بن زید نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے قعقاع بن حکیم سے، قعقاع نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ جب حیض آئے تو نماز ترک کر دے، اور جب حیض آنا بند ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھے۔ سمیّ وغیرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ وہ ایام حیض میں بیٹھی رہے (یعنی نماز سے رکی رہے)۔ ایسے ہی اسے حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور یونس نے حسن سے روایت کی ہے کہ حائضہ عورت کا خون جب زیادہ دن تک جاری رہے تو وہ اپنے حیض کے بعد ایک یا دو دن نماز سے رکی رہے، پھر وہ مستحاضہ ہو گی۔ تیمی، قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب اس کے حیض کے دنوں سے پانچ دن زیادہ گزر جائیں، تو اب وہ نماز پڑھے۔ تیمی کا بیان ہے کہ میں اس میں سے کم کرتے کرتے دو دن تک آ گیا: جب دو دن زیادہ ہوں تو وہ حیض کے ہی ہیں۔ ابن سیرین سے جب اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا: عورتیں اسے زیادہ جانتی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 286]
جناب عروہ بن زبیر، فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ انہیں (فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو) استحاضہ آتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب خون حیض کا ہو جو کہ سیاہ رنگ کا ہوتا ہے اور پہچانا جاتا ہے، تو جب یہ آئے تو نماز سے رکی رہو اور جب دوسرا ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو، یہ ایک رگ ہوتی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ محمد بن مثنیٰ نے کہا کہ ابن ابی عدی نے ہمیں اپنی کتاب سے ایسے ہی بیان کیا (یعنی عروہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مابین کوئی واسطہ نہیں تھا) اور بعد میں جب اپنے حفظ سے روایت کیا تو اس سند میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ فاطمہ کو استحاضہ آتا تھا، پھر اوپر والی روایت کے ہم معنی بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ انس بن سیرین نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مستحاضہ کے بارے میں بیان کیا: ”جب وہ خوب گہرا سرخ خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب طہر محسوس کرے، اگرچہ ایک گھڑی ہی ہو، تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔“ مکحول رحمہ اللہ نے کہا ہے: ”عورتوں کے لیے حیض کا معاملہ پوشیدہ نہیں ہوتا، یہ خون سیاہ اور گاڑھا ہوتا ہے، جب یہ ختم ہو جائے، گاڑھا نہ رہے اور زرد رنگ ہو جائے تو یہ استحاضہ ہوتا ہے، تو چاہیے کہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ حماد بن زید نے بسندِ یحییٰ بن سعید، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مستحاضہ کے بارے میں روایت کیا ہے: ”جب اسے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب ختم ہو جائے تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔“ سمی اور کچھ دوسروں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے: ”(مستحاضہ) اپنے حیض کے ایام میں بیٹھی رہے۔“ ایسے ہی حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن سعید کے واسطہ سے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ یونس رحمہ اللہ، حسن بصری رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں: ”حیض والی کا خون جب طول پکڑ جائے تو حیض کے بعد ایک دو دن تک دیکھے (اگر رک جائے تو بہتر) ورنہ یہ استحاضہ ہے۔“ تیمی رحمہ اللہ نے قتادہ رحمہ اللہ سے بیان کیا: ”جب اس کے ایامِ حیض پر پانچ دن زیادہ ہو جائیں تو نماز پڑھنا شروع کر دے۔“ تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں دنوں کو کم کرتے کرتے دو دن تک پہنچا تو انہوں نے کہا: ”اگر (معروف ایام سے) دو دن زیادہ ہو جائیں تو یہ حیض ہی کے ہوں گے۔“ ابن سیرین رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”عورتوں کو اس کا بخوبی علم ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطہارة 135 (211) (تحفة الأشراف: 18019،16626) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (216) ويأتي (304)
الزھري عنعن (تقدم: 145)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24
إسناده ضعيف
نسائي (216) ويأتي (304)
الزھري عنعن (تقدم: 145)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
304
| إذا كان دم الحيض فإنه دم أسود يعرف فإذا كان ذلك فأمسكي عن الصلاة فإذا كان الآخر فتوضئي وصلي |
سنن أبي داود |
286
| إذا كان دم الحيضة فإنه أسود يعرف فإذا كان ذلك فأمسكي عن الصلاة فإذا كان الآخر فتوضئي وصلي فإنما هو عرق |
بلوغ المرام |
118
| إن دم الحيض دم اسود يعرف فإذا كان ذلك فامسكي عن الصلاة فإذا كان الآخر فتوضئي وصلي |
Sunan Abi Dawud Hadith 286 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق