صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
28. باب فضل مكة - ذكر البيان بأن مكة إنما أحلت للمصطفى صلى الله عليه وسلم ساعة واحدة فقط ثم حرمت حرام الأبد
مکہ کے فضائل کا بیان - اس بات کا بیان کہ مکہ صرف مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا، پھر وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو گیا
حدیث نمبر: 3720
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهِلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ:" إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلا يُعْضَدُ شَوْكَةُ، وَلا تُلْتَقَطُ لُقَطَتَهُ إِلا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلا يُخْتَلَى خَلاؤُهُ"، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلا الإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِبُيُوتِهِمْ، فَقَالَ:" إِلا الإِذْخِرَ، وَلا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ شہر قابل احترام ہے اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے قابل احترام قرار دیا ہے یہاں کہ شکار کو بھگایا نہیں جائے گا یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جائے گا اور یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے اور یہاں کے پودوں کو اکھیڑا نہیں جائے گا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اذخر کی اجازت دے دیں وہ گھروں میں استعمال ہوتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اذخر کی اجازت ہے اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تم سے (جہاد کے لیے) نکلنے کے لیے کہا: جائے، تو تم نکل کھڑے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3720]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1349، 1587، 1833، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1353، وابن الجارود فى "المنتقى"، 558، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3720، 4592، 4865، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2874، وأبو داود فى (سننه) 2/161، بدون ترقيم، 2480، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1590، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2554، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2773، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10055، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4565، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2016» «رقم طبعة با وزير 3712»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1761): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم