سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. باب إِذَا خَافَ الْجُنُبُ الْبَرْدَ أَيَتَيَمَّمُ
باب: جب جنبی کو سردی کا ڈر ہو تو کیا وہ تیمم کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 334
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاص، قَالَ:" احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ، فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا عَمْرُو، صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الِاغْتِسَالِ، وَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ، يَقُولُ: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ مِصْرِيٌّ مَوْلَى خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، وَلَيْسَ هُوَ ابْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ.
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہو گیا اور مجھے یہ ڈر لگا کہ اگر میں نے غسل کر لیا تو مر جاؤں گا، چنانچہ میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو فجر پڑھائی، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”عمرو! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟“، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ کرنے کا سبب بتایا اور کہا: میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ «ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما» (سورۃ النساء: ۲۹) ”تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور آپ نے کچھ نہیں کہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 334]
عبدالرحمٰن بن جبیر، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ ذات سلاسل میں مجھے ایک ٹھنڈی رات احتلام ہو گیا، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا، چنانچہ میں نے تیمم کر لیا اور اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی، انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے عمرو! کیا تو نے جنبی ہوتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی جماعت کرائی تھی؟“ میں نے بتایا کہ کس وجہ سے میں نے غسل نہیں کیا تھا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اللہ کا فرمان سنا ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾ [سورة النساء: 29] ”اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، یقیناً اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور کچھ نہ کہا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن جبیر مصری ہے، خارجہ بن حذافہ کا غلام ہے، اور یہ ابن جبیر بن نفیر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 10750)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/203) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
صححه ابن حبان (202) والحاكم علٰي شرط الشيخين (1/177) ووافقه الذھبي وسنده حسن
صححه ابن حبان (202) والحاكم علٰي شرط الشيخين (1/177) ووافقه الذھبي وسنده حسن
حدیث نمبر: 335
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ، قَالَ: فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ التَّيَمُّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ فِيهِ: فَتَيَمَّمَ.
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے غلام ابو قیس سے روایت ہے کہ عمرو بن العاص ایک سریہ کے سردار تھے، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے: تو انہوں نے اپنی شرمگاہ کے آس پاس کا حصہ دھویا، پھر وضو کیا جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہیں پھر لوگوں کو نماز پڑھائی، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی مگر اس میں تیمم کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ واقعہ اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ہے، اس میں «فتيمم» کے الفاظ ہیں (یعنی انہوں نے تیمم کیا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 335]
جناب ابو قیس مولیٰ عمرو بن العاص سے منقول ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ایک فوجی مہم پر تھے اور مثلِ سابق حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ: ”انہوں نے اپنے زیریں جسم (شرمگاہ اور اطراف) دھوئے اور نماز والا وضو کیا اور انہیں نماز پڑھائی۔“ اور مذکورہ بالا کی مانند بیان کیا اور تیمم کا ذکر نہیں کیا، امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ”یہ قصہ اوزاعی سے، انہوں نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ہے تو اس میں ہے کہ ”انہوں نے تیمم کیا۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10750) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (334)
انظر الحديث السابق (334)