🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

126. باب الْجُنُبِ يَتَيَمَّمُ
باب: جنبی تیمم کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 332
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيَّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: اجْتَمَعَتْ غُنَيْمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، ابْدُ فِيهَا، فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبُو ذَرٍّ، فَسَكَتُّ، فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ، فَدَعَا لِي بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ وَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا، فَقَالَ:" الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ"، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: غُنَيْمَةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ عَمْرٍو أَتَمُّ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ بکریاں جمع ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! تم ان بکریوں کو جنگل میں لے جاؤ، چنانچہ میں انہیں ہانک کر مقام ربذہ کی طرف لے گیا، وہاں مجھے جنابت لاحق ہو جایا کرتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ روز یوں ہی رہا کرتا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: ابوذر!، میں خاموش رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں تم پر روئے، ابوذر! تمہاری ماں کے لیے بربادی ہو ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ایک کالی لونڈی بلائی، وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی، اس نے میرے لیے ایک کپڑے کی آڑ کی اور (دوسری طرف سے) میں نے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، (غسل کر کے مجھے ایسا لگا) گویا کہ میں نے اپنے اوپر سے کوئی پہاڑ ہٹا دیا ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو (کے پانی کے حکم میں) ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے، جب تم پانی پا جاؤ تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو، اس لیے کہ یہ بہتر ہے۔ مسدد کی روایت میں «غنيمة من الصدقة» کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 332]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کچھ بکریاں جمع ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! انہیں لے کر باہر جنگل میں چلے جاؤ۔ چنانچہ میں ربذہ کے بادیہ میں چلا گیا۔ پس میں جنبی ہو گیا تو پانچ چھ دن وہاں رہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوذر! تو میں خاموش رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے تیری ماں گم کرے، ابوذر! تیری ماں کے لیے افسوس۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری خاطر ایک کالی سی لونڈی کو بلوایا تو وہ ایک بڑا سا پیالہ لے آئی، اس میں پانی تھا۔ اس نے مجھے کپڑے سے پردہ کر دیا اور (دوسری طرف سے) میں اپنی سواری کی اوٹ میں ہو گیا اور غسل کیا تو (اس طرح) میرے سر سے گویا ایک پہاڑ اتر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پاک مٹی مسلمان کے لیے طہارت کا ذریعہ ہے اگرچہ دس سال تک (پانی نہ پائے) پھر جب تمہیں پانی ملے تو اسے اپنے جسم پر ڈالو۔ یقیناً یہ بہتر ہے۔ مسدد نے بیان کیا کہ یہ بکریاں صدقے کی تھیں اور عمرو کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 92 (124)، سنن النسائی/الطھارة 205 (323)، (تحفة الأشراف: 12008)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/155، 180) (صحیح)» ‏‏‏‏ (بزار وغیرہ کی روایت کردہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے ایک راوی ”عمرو بن بجدان“ مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس طرح کے الفاظ زبان پر یوں ہی بطور تعجب جاری ہو جاتے ہیں ان سے بددعا مقصود نہیں ہوتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (530)
عمرو بن بجدان: وثقه العجلي المعتدل وابن خزيمة وابن حبان والحاكم والذھبي فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 333
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَأَهَمَّنِي دِينِي، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ:" إِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ، فَقَالَ لِي: اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِهَا، هَذَا قَوْلُ حَمَّادٍ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ، وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَقُلْتُ: نَعَمْ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَمَا أَهْلَكَكَ؟ قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طُهُورٍ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَتَسَتَّرْتُ إِلَى بَعِيرِي فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ، وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، لَمْ يَذْكُرْ أَبْوَالَهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَلَيْسَ فِي أَبْوَالِهَا إِلَّا حَدِيثُ أَنَسٍ، تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ.
قبیلہ بنی عامر کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو مجھے اپنا دین سیکھنے کی فکر لاحق ہوئی لہٰذا میں ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے کہا: مجھے مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ اونٹ اور بکریاں دینے کا حکم دیا اور مجھ سے فرمایا: تم ان کا دودھ پیو، (حماد کا بیان ہے کہ مجھے شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیشاب بھی پینے کے لیے کہا یا نہیں، یہ حماد کا قول ہے)، پھر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پانی سے (اکثر) دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی بھی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوپہر کے وقت آیا، آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد کے سائے میں (بیٹھے) تھے، آپ نے فرمایا: ابوذر؟، میں نے کہا: جی، اللہ کے رسول! میں تو ہلاک و برباد ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تمہیں ہلاک و برباد کیا؟، میں نے کہا: میں پانی سے دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا، چنانچہ ایک کالی لونڈی بڑے برتن میں پانی لے کر آئی جو برتن میں ہل رہا تھا، برتن بھرا ہوا نہیں تھا، پھر میں نے اپنے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، پھر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، اگرچہ تم دس سال تک پانی نہ پاؤ، لیکن جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنی کھال پر بہاؤ (غسل کرو)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے پیشاب کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ صحیح نہیں ہے اور پیشاب کا ذکر صرف انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، جس میں اہل بصرہ منفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 333]
جناب ابوقلابہ، بنی عامر کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، اس شخص کا بیان ہے کہ میں نے اسلام قبول کر لیا مگر میرے ذہن نے مجھے فکر میں ڈال دیا۔ چنانچہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے مدینہ کی آب و ہوا کو اپنے لیے ناموافق پایا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے چند اونٹوں اور بکریوں کا حکم دیا (کہ اسے دے دی جائیں) اور مجھے فرمایا ان کا دودھ پیو۔ حماد کی روایت میں ہے: مجھے شک ہے کہ اس میں پیشاب کا بیان ہے یا نہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں پانی سے دور ہوتا تھا اور میرے ساتھ میری اہلیہ بھی تھی اور مجھے جنابت پہنچتی تھی تو میں پانی کے بغیر ہی نماز پڑھ لیتا تھا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، دوپہر کا وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی معیت میں مسجد کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے دیکھ کر) فرمایا ابوذر؟ میں نے کہا: جی، میں تو ہلاک ہو گیا، اے اللہ کے رسول! فرمایا کس چیز نے ہلاک کر دیا تجھے؟ میں نے کہا: میں پانی سے دور ہوتا تھا، بیوی میرے ساتھ تھی اور مجھے جنابت پہنچتی تھی تو میں بغیر غسل کیے نماز پڑھتا رہا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم فرمایا۔ ایک سیاہ رنگ کی لونڈی ایک بڑا سا پیالہ لے آئی، پانی اس میں چھلک رہا تھا اور وہ پوری طرح بھرا ہوا بھی نہ تھا، تو میں نے اپنے اونٹ کی اوٹ میں ہو کر غسل کیا اور حاضر خدمت ہو گیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے اگرچہ تجھے دس سال تک پانی نہ ملے اور جب پانی مل جائے تو اسے اپنی جلد پر ڈالو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا تو اس میں اونٹوں کے پیشاب کا ذکر نہیں کیا اور یہ صحیح (بھی) نہیں ہے۔ ہاں ان کے پیشاب کے بارے میں صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے (یعنی حدیث «عُرَنِيِّين») جس کی روایت میں اہل بصرہ متفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12008) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں ایک راوی ”رجل من بنی عامر“ مبہم راوی ہیں اور یہ وہی ”عمرو بن بجدان“ ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
رجل من بني عامر ھو عمرو بن بجدان (التقريب: 8522) وھو صحيح الحديث وثقه العجلي المعتدل وابن خزيمة وابن حبان والحاكم والذھبي فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں