صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
218. باب التمتع - ذكر الخبر الدال على استحباب إهلال المرء بالتمتع بالعمرة إلى الحج والإيثار على القران والإفراد معا
تمتع کے حج کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کے لیے عمرہ سے حج تک تمتع کا احرام کرنا اور قران و افرد پر ترجیح دینا مستحب ہے
حدیث نمبر: 3922
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ ،، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ مَوَالِيهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي لَمْ أَحُجَّ قَطُّ، فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ، بِالْحَجِّ أَمْ بِالْعُمْرَةِ؟، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ، وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، فَذَهَبْتُ إِلَى صَفِيَّةَ، فَقَالَتْ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِ صَفِيَّةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَا آلَ مُحَمَّدٍ مَنْ حَجِّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ".
ابوعمران بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنے غلاموں کے ہمراہ حج کیا وہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: اے ام المؤمنین! میں نے پہلے حج نہیں کیا، تو اب میں پہلے حج کروں یا عمرہ کروں؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو حج کرنے سے پہلے عمرہ کر لو اور اگر چاہو، تو حج کرنے کے بعد عمرہ کر لینا پھر میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے بھی مجھ سے یہی بات ارشاد فرمائی میں واپس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہیں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے بارے میں بتایا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”اے محمد کے گھر والو! تم میں سے جو شخص حج کرے وہ حج میں عمرے کا بھی تلبیہ پڑھے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3922]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3920، 3922، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8877، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27191» «رقم طبعة با وزير 3911»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر (3909). تنبيه!! رقم (3909) = (3920) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح