صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
277. باب الكفارة - ذكر البيان بأن هذا الحكم لكعب بن عجرة ومن كانت حالته حالته فيه سواء
کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ حکم کعب بن عجرہ اور اس جیسے حالات والوں کے لیے برابر ہے
حدیث نمبر: 3987
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا: فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: حُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أَرَى الْجَهْدَ قَدْ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟"، قُلْتُ: لا، قَالَ:" فَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ اطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ"، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِي خَاصَّةٍ، وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةٌ .
عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا۔ ”تو اس کا فدیہ روزے رکھنا ہو گا یا صدقہ کرنا ہو گا یا قربانی کرنا ہو گا۔“ تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا میری جوئیں میرے چہرے پر آ رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اتنی بڑھ گئی ہو گی جو مجھے اب نظر آ رہی ہے کیا تمہارے پاس بکری ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو جس میں سے ہر مسکین کو نصف صاع دیا جائے۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو یہ آیت بطور خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، لیکن اس کا حکم تم سب کیلئے عام ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3987]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3976»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر (3974). تنبيه!! رقم (3974) = (3985) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري