🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب الصَّلاَةِ مِنَ الإِسْلاَمِ
باب: نماز کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 391
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِيَامَ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّدَقَةَ، قَالَ: فَهَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ".
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل نجد کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جس کے بال پراگندہ تھے، اس کی آواز کی گنگناہٹ تو سنی جاتی تھی لیکن بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک کہ وہ قریب آیا، تب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسلام) دن رات میں پانچ وقت کی نماز پڑھنی ہے، اس نے پوچھا: ان کے علاوہ اور کوئی نماز مجھ پر واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۱؎ إلا یہ کہ تم نفل پڑھو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ماہ رمضان کے روزے کا ذکر کیا، اس نے پوچھا: اس کے سوا کوئی اور بھی روزے مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، إلا یہ کہ تم نفلی روزے رکھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکاۃ کا ذکر کیا، اس نے پوچھا: اس کے علاوہ کوئی اور بھی صدقہ مجھ پر واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، إلایہ کہ تم نفلی صدقہ کرو۔ پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر یہ کہتے ہوئے چلا: قسم اللہ کی! میں نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بامراد رہا اگر اس نے سچ کہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 391]
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل نجد میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کی آواز کی گنگناہٹ سنی جا رہی تھی مگر سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کہہ رہا ہے، حتیٰ کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے) قریب آ گیا تو وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں۔ کہنے لگا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تو نفل پڑھنا چاہے۔ راوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رمضان کے روزوں کا ذکر فرمایا تو اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تو نفل رکھنا چاہے۔ راوی نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقہ (زکوٰۃ) کا بھی بتایا تو اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ہاں اگر تو نفل دینا چاہے۔ چنانچہ وہ آدمی واپس ہوا اور کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ کروں گا نہ کم۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہوا اگر ثابت قدم رہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 34 (46)، والصوم 1 (1891)، والشہادات 26 (2678)، والحیل 3 (6956)، صحیح مسلم/الإیمان 2 (11)، سنن النسائی/الصلاة 4 (459)، والصوم 1 (2092)، الإیمان 23 (5031)، (تحفة الأشراف: 5009)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة 25(94)، مسند احمد (1/162)، سنن الدارمی/الصلاة 208 (1691) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (46) صحيح مسلم (11)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 392
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ، دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ
اس سند سے بھی ابوسہیل نافع بن مالک بن ابی عامر سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے باپ کی قسم! ۱؎ اگر اس نے سچ کہا تو وہ بامراد رہا، اور اس کے باپ کی قسم! اگر اس نے سچ کہا تو وہ جنت میں جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 392]
ابو سہل نافع بن مالک بن ابی عامر رحمہ اللہ کی سند سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہوا، قسم اس کے باپ کی، اگر سچا ہوا۔ اور جنت میں داخل ہوا، قسم اس کے باپ کی اگر سچا ہوا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 5009) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ قسم عادت کے طور پر ہے، بالارادہ نہیں، یا غیر اللہ کی قسم کی ممانعت سے پہلے کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة وأبيه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1891 مختصرًا) صحيح مسلم (11)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں