🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب [ فرض الصلاة ]
باب: نماز کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 392
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ، دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ
اس سند سے بھی ابوسہیل نافع بن مالک بن ابی عامر سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے باپ کی قسم! ۱؎ اگر اس نے سچ کہا تو وہ بامراد رہا، اور اس کے باپ کی قسم! اگر اس نے سچ کہا تو وہ جنت میں جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 392]
ابو سہل نافع بن مالک بن ابی عامر رحمہ اللہ کی سند سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہوا، قسم اس کے باپ کی، اگر سچا ہوا۔ اور جنت میں داخل ہوا، قسم اس کے باپ کی اگر سچا ہوا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 5009) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ قسم عادت کے طور پر ہے، بالارادہ نہیں، یا غیر اللہ کی قسم کی ممانعت سے پہلے کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة وأبيه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1891 مختصرًا) صحيح مسلم (11)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نافع بن مالك التيمي، أبو سهيلثقة
👤←👥إسماعيل بن جعفر الأنصاري، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن جعفر الأنصاري ← نافع بن مالك التيمي
ثقة
👤←👥سليمان بن داود العتكي، أبو الربيع
Newسليمان بن داود العتكي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 392 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 392
392۔ اردو حاشیہ:
اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر اللہ کی قسم کھائی، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے، اس کی بابت علماء نے کہا ہے کہ یہ واقعہ ممانعت سے پہلے کا ہے یا پھر اس کی حیثیت بغیر قصد کے عادت کے طور پر قسم کھانے کی ہے جو قرآن کریم کی آیت «لا يواخذ كم الله باللغو فى ايمانكم» [البقره: 2؍ 225]
اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری لغو قسموں پر مواخذہ نہیں کرے گا۔ کی رُو سے معاف ہے۔ تاہم یہ عادت صحیح نہیں ہے، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔ علاوہ ازیں مسلمانوں میں جہالت اور مشرکانہ عقیدے عام ہیں، ایسے ماحول میں غیر اللہ کی قسم کھانے سے سختی کے ساتھ رکنے اور دوسروں کو روکنے کی شدید ضرورت ہے تاکہ لوگ شرک سے بچ سکیں۔ ویسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت میں الفاظ «وابيه» قسم ہے اس کے باپ کی۔ کو شاذ قرار دیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 392]

Sunan Abi Dawud Hadith 392 in Urdu