🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. - ذكر الزجر عن تزويج الرجل من النساء من لا تلد
- ذکر اس ممانعت کا کہ مرد کو ایسی عورتوں سے شادی نہیں کرنی چاہیے جو اولاد نہ دیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4056
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، وَلَكِنَّهَا لا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ: فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ" .
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک ایسی خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا ہے جو مالدار بھی ہے اور خوبصورت بھی ہے لیکن وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، کیا میں اس کے ساتھ شادی کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا، وہ دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی بات بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا، وہ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی بات بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسی عورت کے ساتھ شادی کرو جو محبت کرنے والی ہو اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4056]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4056، 4057، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2700، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3227، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5323، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2050، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13605، والطبراني فى(الكبير) برقم: 508» «رقم طبعة با وزير 4044»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (1789).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں