صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
43. - باب الولي
ولی کے بیان کا باب -
حدیث نمبر: 4071
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ:" كَانَتْ أُخْتُهُ تَحْتَ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا، ثُمَّ خَلَّى عَنْهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ قَرَّبَ يَخْطُبُهَا، فَحَمِيَ مَعْقِلٌ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: خَلَّى عَنْهَا، وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا، فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ سورة البقرة آية 232" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا آخَرَ.
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی بہن ایک شخص کی بیوی تھی، اس شخص نے انہیں طلاق دے دی اور پھر اسے یوں ہی رہنے دیا یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی، پھر اس شخص نے نکاح کا پیغام بھجوایا تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کو اس بات پر غصہ آ گیا اور بولے: اس نے اس عورت کو ایسے ہی رہنے دیا حالانکہ یہ اس سے رجوع کر سکتا تھا۔ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ اس بارے میں رکاوٹ بن گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اس بات سے نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے (دوبارہ) نکاح پڑھوا لیں جب کہ وہ لوگ آپس میں مناسب طور پر ایک دوسرے سے راضی ہوں﴾ [سورة البقرة: 232] ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات محذوف ہے کہ اس خاتون نے بعد میں دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لی تھی (پھر اس سے طلاق ہو گئی یا وہ بیوہ ہو گئیں، تو پہلے شوہر نے نکاح کا پیغام بھیجا)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4071]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4529، 5130، 5330، 5331، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4071، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2735، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2087، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13725، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3524» «رقم طبعة با وزير 4059»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1820): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين