صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
71. - باب ثبوت النسب وما جاء في القائف - ذكر البيان بأن مجززا المدلجي كان قائفا
نسب کے ثبوت اور قائف کے بارے میں بیان - اس بات کا بیان کہ مجززہ مدلجی قائف تھا
حدیث نمبر: 4103
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا فَرِحًا مِمَّا قَالَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ، وَنَظَرَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مُضْطَجِعًا مَعَ أَبِيهِ، فَقَالَ: " هَذِهِ الأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ"، وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوشی کے عالم میں میرے ہاں تشریف لائے کیونکہ مجزز مدلجی نے اسامہ بن زید کو اپنے والد کے ساتھ لپٹے ہوئے دیکھ کر (ان کے صرف پاؤں دیکھ کر) یہ کہا: تھا: یہ باپ بیٹے کے پاؤں ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) مجزز نامی صاحب قیافہ شناس تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4103]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4091»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله، وليس عند (خ): وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا؛ إلاَّ مفرَّقاً.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم