صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
72. - باب ثبوت النسب وما جاء في القائف - ذكر الإخبار عن إيجاب إلحاق الولد من له الفراش إذا أمكن وجوده ولم يستحل كونه
نسب کے ثبوت اور قائف کے بارے میں بیان - اس بات کی اطلاع کہ بچے کو اس کے فراش والے سے ملانا واجب ہے اگر اس کا وجود ممکن ہو اور اس کا جائز ہونا ثابت نہ ہو
حدیث نمبر: 4104
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بچہ فراش والے کو ملے گا اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4104]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4092»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «صحيح أبي داود» (1966): ق - أبي هريرة وعائشة، ويأتي حديثهما.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4105
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةَ زَمْعَةٌ مِنِّي، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ، أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ: أَخِي، وَابْنُ وَلِيدَةَ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي، وَابْنُ وَلِيدَةَ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ:" احْتَجِبِي مِنْهُ لَمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ" ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کرتی ہیں: عتبہ بن ابووقاص نے اپنے بھائی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ تلقین کی کہ زمعہ کی کنیز کا بیٹا میری اولاد ہے تم اسے اپنے قبضے میں لے لینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے سال سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس لڑکے کو اپنے قبضے میں لے لیا اور بولے: یہ میرا بھتیجا ہے اس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہد لیا تھا تو عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور بولے: یہ میرا بھائی ہے میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے یہ میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا۔ یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھائی نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا جو اس بچے کے بارے میں تھا عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے یہ میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبد بن زمعہ یہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ فراش والے کو ملتا ہے اور زانی کو محرومی ملتی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اس لڑکے سے پردہ کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کی عتبہ کے ساتھ مشابہت ملاحظہ کر لی تھی، تو اس لڑکے نے کبھی بھی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4105]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4093»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين