🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. - باب ثبوت النسب وما جاء في القائف - ذكر الخبر الدال على أن الحكم بالتشبيه مما وصفنا غير جائز إذا كان الفراش معدوما
نسب کے ثبوت اور قائف کے بارے میں بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اگر فراش موجود نہ ہو تو تشبیہ کے ساتھ حکم دینا جائز نہیں، جیسا کہ ہم نے بیان کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4106
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَضَعَتْ غُلامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَلْوَانُهَا؟"، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟"، قَالَ: إِنَّ فِيهَا وُرْقًا، قَالَ:" فَأَنَّى أَتَاهُ ذَلِكَ؟"، قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ:" وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میری بیوی نے سیاہ رنگ کے لڑکے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ان کا رنگ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: سرخ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟ اس نے جواب دیا: ان میں ایک خاکستری بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کہاں سے آ گیا؟ اس نے جواب دیا: کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ہو سکتا ہے اسے بھی کسی رگ نے کھینچ لیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4106]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4094»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1956): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4107
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَلْوَانُهَا؟"، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقٍ؟"، فَقَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ:" فَأَنَّى تَرَاهُ ذَلِكَ؟"، فَقَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ" ، حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مَرَّةً أُخْرَى، وَقَالَ: إِنَّ أَمَتِي وَلَدَتْ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ"، ثُمَّ تَعْقِيبُهُ هَذِهِ اللَّفْظَةَ بِقَوْلِ:" فَمَا أَلْوَانُهَا" لَفْظَةُ اسْتِخْبَارِ عَنْ هَذَا الشَّيْءِ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ اسْتِعْمَالِ الْمَرْءِ فِي فِرَاشِهِ بِوَسْوَسَةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ، أَوْ بِتَبَايُنِ الصُّورَتَيْنِ عِنْدَ وُجُودِ الشَّخْصِ مِنَ الشَّخْصِ الْمُقَدَّمِ، مَا عَسَى أَنْ يَأْثَمَ فِي اسْتِعْمَالِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میری بیوی نے سیاہ رنگ کے لڑکے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ان کا رنگ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: سرخ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟ اس نے جواب دیا: ان میں خاکستری بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیا سمجھتے ہو یہ کہاں سے آیا ہو گا۔ اس نے جواب دیا: ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہاں (یعنی تمہارے بچے) کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ کرتے ہیں) عبداللہ نامی راوی نے جب دوسری مرتبہ ہمیں یہ حدیث سنائی تو یہ الفاظ نقل کیے۔ میری کنیز نے بچے کو جنم دیا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دریافت کرنا ان کا رنگ کیا ہے ان میں لفظی طور پر تو اس چیز کے بارے میں اطلاع حاصل کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: آدمی اپنی اولاد کے بارے میں شیطان کے وسوسے کو اختیار کرنے سے بچے یا ایسی صورت میں شیطان کے وسوسے سے بچے جب بچے کی شکل و صورت باپ سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے وسوسے پر عمل کے نتیجے میں وہ گناہ گار ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4107]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4095»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں