صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. ذكر ما يستحب للمرء إكرام من أرضعته في صباه-
- اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اسے عزت دے جس نے اسے بچپن میں دودھ پلایا
حدیث نمبر: 4232
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْجِعْرَانَةَ يَقْسِمُ لَحْمًا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلامٌ أَحْمِلُ عُضْوَ الْبَعِيرِ، قَالَ: " فَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ بَدَوِيَّةٌ، فَلَمَّا دَنَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ، فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ" .
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جعرانہ“ کے مقام پر گوشت تقسیم کیا میں ان دنوں لڑکا تھا میں نے اونٹ کا ایک عضو اٹھایا ہوا تھا ایک دیہاتی عورت آئی جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اپنی چادر کو بچھا دیا وہ عورت اس پر بیٹھ گئی میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے تو لوگوں نے بتایا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی والدہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4232]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4218»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «المشكاة» (3175/ التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null