صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
35. باب النفقة - ذكر عدم إيجاب السكنى والنفقة للمطلقة ثلاثا على زوجها-
نفقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ تین طلاق والی عورت کے لیے اس کے شوہر پر رہائش اور نفقہ واجب نہیں
حدیث نمبر: 4250
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ،" أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَقَةً وَلا سُكْنَى" . قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ، فَقَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا وَلا سُنةَ نَبِيِّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ، لَهَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خرچ اور رہائش کا حق نہیں دیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں: ”ہم اپنے پروردگار کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت (کا حکم) کسی عورت کے بیان کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے، ایسی عورت کو خرچ اور رہائش ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4250]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1480، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4049، 4250، 4251، 4252، 4253، 4254، 4289، 4290، 4291، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6973، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3222، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 589، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3920، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27742» «رقم طبعة با وزير 4236»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1980 و 1983): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما