🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. باب الظهار - ذكر وصف الحكم للمظاهر من امرأته وما يلزمه عند ذلك من الكفارة-
ظہار کا بیان - ظہار کرنے والے کے لیے حکم کی صفت اور اس پر اس وقت کفارہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4279
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ 4279اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ ، قَالَتْ: فِي وَاللَّهِ وَفِي أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا صَدْرَ سُورَةِ الْمُجَادِلَةِ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَهُ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ سَاءَ خُلُقُهُ وَضَجِرَ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا فَرَاجَعْتُهُ فِي شَيْءٍ، فَغَضِبَ، وَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي. ثُمَّ خَرَجَ، فَجَلَسَ فِي نَادِي قَوْمِهِ سَاعَةً ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ، فَإِِذَا هُوَ يُرِيدُنِي عَلَى نَفْسِي، قَالَتْ: قُلْتُ: كَلا وَالَّذِي نَفْسُ خُوَيْلَةَ بِيَدِهِ، لا تَخْلُصُ إِِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فِينَا بِحُكْمِهِ. قَالَتْ: فَوَاثَبَنِي، فَامْتَنَعْتُ مِنْهُ، فَغَلَبَتْهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الشَّيْخَ الضَّعِيفَ، فَأَلْقَيْتُهُ تَحْتِي، ثُمَّ خَرَجْتُ إِِلَى بَعْضِ جَارَاتِي فَاسْتَعَرْتُ مِنْهَا ثِيَابًا، ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ مَا لَقِيتُ مِنْهُ، فَجَعَلْتُ أَشْكُو إِِلَيْهِ مَا أَلْقَى مِنْ سُوءِ خُلُقِهِ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَا خُوَيْلَةُ، ابْنُ عَمِّكِ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَاتَّقِي اللَّهَ فِيهِ". قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ، فَتَغَشَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَغْشَاهُ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ:" يَا خُوَيْلَةُ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ"، قَالَتْ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ إِِلَى قَوْلِهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة المجادلة آية 1 - 4، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً". قَالَتْ: وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَهُ مَا يَعْتِقُ. قَالَ:" فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ. قَالَ:" فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ". فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا ذَلِكَ عِنْدَهُ. قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِِنَّا سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَأُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ. فَقَالَ:" أَصَبْتِ وَأَحْسَنْتِ، فَاذْهَبِي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَوْصِي بِابْنِ عَمِّكِ خَيْرًا". قَالَتْ: فَفَعَلْتُ .
سیدہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے میرے اور (میرے شوہر) اوس بن صامت کے بارے میں سورۃ مجادلہ کی ابتدائی آیات نازل کی تھیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں ان کی بیوی تھی وہ ایک بڑی عمر کے بزرگ آدمی تھے جن کے اخلاق اچھے نہیں تھے وہ ڈانٹ ڈپٹ کیا کرتے تھے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: ایک دن وہ میرے ہاں تشریف لائے میں نے (لڑائی کے دوران) کسی بات کا جواب دیا: تو وہ غصے میں آ گئے اور بولے: تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح (قابل احترام) ہو پھر وہ گھر سے باہر چلے گئے وہ اپنی قوم کی چوپال میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر میرے ہاں تشریف لائے وہ میری قربت حاصل کرنا چاہتے تھے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں خویلہ کی جان ہے آپ جو بات کہہ چکے ہیں اس کی وجہ سے اب آپ میرے پاس اس وقت تک نہیں آ سکتے جب تک اللہ اور اس کا رسول اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دے دیتے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: انہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا میں نے ان سے بچنے کی کوشش کی وہ خاتون اس پر اتنا غالب آ گئی جتنی کوئی عورت ایک بوڑھے عمر رسیدہ شخص پر غالب آ سکتی ہے میں نے انہیں اپنے نیچے کر لیا، پھر میں اپنی پڑوسن کے گھر آ گئی میں نے اس سے چادر عارضی استعمال کے لیے لی پھر میں وہاں سے نکلی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں آپ کے سامنے بیٹھ گئی میں نے آپ کے سامنے ساری صورت حال کا ذکر کیا اور میں نے آپ کے سامنے اس بات کی بھی شکایت کی کہ مجھے ان کی طرف سے برے اخلاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ خاتون بیان کرتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خویلہ تمہارے چچازاد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں تم ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ خاتون نے عرض کی: اللہ کی قسم: میں ابھی وہیں تھی، یہاں تک کہ قرآن کا حکم نازل ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر وہ خاص کیفیت طاری ہوئی (جو وحی کے نزول کے وقت ہوتی تھی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خویلہ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہارے شوہر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات کو سن لیا ہے جو اپنے شوہر کے بارے میں تمہارے ساتھ بحث کر رہی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کر رہی تھی۔ یہ آیت یہاں تک ہے کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے (یعنی اپنے شوہر کو) کہو کہ وہ کوئی گردن آزاد کرے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے وہ آزاد کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں ان میں روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھجوروں کا وسق کھلائے میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے پاس یہ بھی نہیں ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم کھجوروں کے ایک عرق کے ذریعے اس کی مدد کریں گے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک اور عرق کے ذریعے ان کی مدد کر دوں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ٹھیک کیا ہے اور تم نے اچھا کیا ہے تم جاؤ اور ان کی طرف سے صدقہ کر دو اور اپنے چچازاد کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو تو وہ خاتون کہتی ہیں، تو میں نے ایسا ہی کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4279]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4265»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (1918)، «الإرواء» (2087).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح رجاله كلهم ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں