صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
18. باب الخلع - ذكر الأمر للمرأة بإعطاء ما طابت نفسها به على الخلع-
خلع کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ عورت اپنی رضا مندی سے خلع کے لیے جو کچھ دے سکے دے
حدیث نمبر: 4280
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّةِ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِِلَى صَلاةِ الصُّبْحِ، فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عَلَى بَابِهِ فِي الْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا شَأْنُكِ؟" فَقَالَتْ: لا أَنَا وَلا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا. فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ". قَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ:" خُذْ مِنْهَا". فَأَخَذَ مِنْهَا، وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا" .
سیدہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے گھر سے نکلے تو انہوں نے اندھیرے میں حبیبہ بنت سہل کو اپنے دروازے پر موجود پایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اس خاتون نے جواب دیا: میرا اور ثابت بن قیس کا گزارا نہیں ہو سکتا، یعنی اس نے اپنے شوہر کے بارے میں یہ بات کہی۔ جب ثابت رضی اللہ عنہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے جو اللہ کو منظور تھا وہ ذکر کیا ہے۔“ تو سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انہوں نے جو بھی (مہر کے طور پر) دیا تھا وہ میرے پاس ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”وہ تم اس سے لے لو۔“ تو وہ انہوں نے اس سے لے لیا اور وہ خاتون اپنے میکے واپس چلی گئیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4280]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 2082، وابن الجارود فى "المنتقى"، 809، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4280، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3462، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2227، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1430، 1431، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14953، 14954، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28087» «رقم طبعة با وزير 4266»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1929). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح