صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
19. باب اللعان - ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله آية اللعان-
لعان کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اللہ نے لعان کی آیت نازل کی
حدیث نمبر: 4281
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ بن عبد الحميد ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا، فَإِِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِِنْ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، فَوَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَيْهِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا، فَإِِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، وَإِِنْ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ افْتَحْ"، فَنَزَلَتْ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ، سورة النور آية 6 هَؤُلاءِ الآيَاتُ فِي اللِّعَانِ، فَجَاءَ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْرَأَتُهُ فَتَلاعَنَا، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ. فَلَمَّا أَخَذَتِ امْرَأَتُهُ لِتَلْتَعِنَ، قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْ". فَالْتَعَنَتْ، فَلَمَّا أَدْبَرَتْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا"، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا . قَالَ إِِسْحَاقُ: قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قُلْتُ لِجَرِيرٍ: لَمْ يَرْوِ هَذَا عَنِ الأَعْمَشِ أَحَدٌ غَيْرُكَ. قَالَ: لَكِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کی مسجد میں موجود تھے، ایک صاحب نے عرض کی: آپ لوگوں کی کیا رائے ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے تو اگر وہ اس دوسرے شخص کو قتل کر دیتا ہے تو آپ لوگ اسے قتل کر دیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو وہ ناراضگی کے عالم میں خاموش رہے گا (یا ایسی بات پر خاموش رہے گا جس پر غصہ کیا جانا چاہیے)، اللہ کی قسم! میں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا۔ اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے تو آپ لوگ قتل کر دیں گے، اگر وہ یہ الزام عائد کرتا ہے تو آپ لوگ اسے کوڑے لگائیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو ایسی بات پر خاموش رہتا ہے جس پر غصہ کرنا چاہیے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یا اس شخص نے) دعا کی «اللَّهُمَّ انْزِلْ فَرَجًا» ”اے اللہ! تو کشادگی عطا کر“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ﴾ [سورة النور: 6] ”اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں“۔ یہ آیات لعان کے بارے میں ہیں۔ پھر وہ شخص اور اس کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں نے لعان کیا، اس مرد نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو۔ پھر اس عورت نے لعان کرنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ“ لیکن اس عورت نے لعان کیا۔ جب وہ چلی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے یہ عورت سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کو جنم دے“۔ (راوی کہتے ہیں) تو اس عورت کے ہاں سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اسحاق نامی راوی کہتے ہیں: یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے، میں نے جریر رحمہ اللہ سے کہا: آپ کے علاوہ اور کسی نے یہ روایت اعمش رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل نہیں کی ہے، تو جریر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے تو ان سے یہ روایت سنی ہوئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4281]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1495، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4281، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2068، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15441،وأحمد فى (مسنده) برقم: 4082» «رقم طبعة با وزير 4267»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1950): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
حدیث نمبر: 4282
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ " إِِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلا، أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی کیا رائے ہے، اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہوں تو کیا میں اس شخص کو مہلت دوں گا تاکہ پہلے چار گواہ لے آؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4282]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1498، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2730، وابن الجارود فى "المنتقى"، 850، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4282، 4409، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7293، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4532، 4533، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2605، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17109، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8437» «رقم طبعة با وزير 4268»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث نمبر: 4283
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا يَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا مَا ذِكْرُ فِي الْقُرْآنِ مِنَ الْمُتَلاعِنِينَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قُضِيَ فِيكَ، وَفِي امْرَأَتِكَ". قَالَ: فَتَلاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنْ أَمْسِكُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا، فَكَانَتْ سُنَّةٌ بَعْدُ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنِينَ، فَكَانَتْ حَامِلا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے، تو کیا آپ لوگ (بدلے میں) اسے قتل کر دیں گے؟ ایسے شخص کو کیا کرنا چاہیے؟“ (راوی کہتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وہ چیز ذکر فرمائی جو «لِعَان» کرنے والوں کے حوالے سے ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا گیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ان دونوں نے «لِعَان» کیا، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، اس شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر اب بھی میں اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے“، چنانچہ اس شخص نے اس عورت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد یہ طریقہ (سنت) جاری ہو گیا کہ «لِعَان» کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جاتی ہے؛ وہ خاتون حاملہ تھیں اور اس شخص نے اس عورت کے حمل کا انکار کیا تھا، تو اس خاتون کے بچے کو اس کی ماں کی نسبت سے پکارا جاتا تھا، اس کے بعد میراث میں بھی یہ طریقہ جاری ہوا کہ وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا اور وہ عورت اس بچے کی وارث بنتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کا حصہ مقرر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4283]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 423، 4745، 4746، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1492، وابن الجارود فى "المنتقى"، 797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4283، 4284، 4285، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2066، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1555، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12616، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23266» «رقم طبعة با وزير 4269»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1949): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرطهما