🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. باب اللعان - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
لعان کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4285
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلانِيَّ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَكَانَ سَيِّدُ بَنِي الْعَجْلانِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ: سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَأَتَى عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ" رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟". فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَأَتَى عُوَيْمِرًا، فَقَالَ لَهُ: إِِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لا انْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَى عُوَيْمِرٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلاعَنَا بِمَا سَمَّى اللَّهُ فِي كِتَابِهِ". قَالَ: فَلاعَنَهَا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِِنْ حَبَسْتُهَا فَقَدْ ظَلَمْتُهَا. قَالَ: فَطَلَّقَهَا، وَكَانَتْ سُنَّةٌ لِمَنْ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلاعِنِينَ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوا فَإِِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ، أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ، عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَلا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِِلا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحْرَةٌ فَلا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِِلا وَقَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا". قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، قَالَ: فَكَانَ يُنْسَبُ بَعْدُ إِِلَى أُمِّهِ .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عویمر عجلانی رحمہ اللہ سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو بنو عجلان کے سردار تھے انہوں نے کہا: ایسے شخص کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور مرد کو پاتا ہے تو اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے تو آپ لوگ اس شخص کو قتل کر دیں گے تو پھر اس شخص کو کیا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا: آپ میرے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک اور شخص کو پاتا ہے تو کیا وہ اسے قتل کر دے اس طرح تو آپ اسے قتل کر دیں گے تو پھر اس شخص کو کیا کرنا چاہئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسندیدہ قرار دیا اور اسے معیوب قرار دیا۔ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسندیدہ اور معیوب قرار دیا ہے تو سیدنا عویمر نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گا جب تک اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کر لیتا تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں (حکم) نازل کر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (میاں بیوی) کو ہدایت کی تو ان دونوں نے لعان کیا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے اس عورت کے ساتھ لعان کر لیا، پھر اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو میں اس کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ہو جاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں، تو انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی۔ اس کے بعد لعان کرنے والوں میں یہ طریقہ رائج ہو گیا (کہ مرد آخر میں عورت کو طلاق دے دیتا ہے) راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس بات کا دھیان رکھنا اگر اس عورت نے کالے رنگ کے کالی آنکھوں والے بڑے سرین والے اور موٹی ایڑیوں والے بچے کو جنم دیا تو میرا اندازہ ہے عویمر نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا: ہو گا اور اگر اس نے سرخ رنگ کے بچے کو جنم دیا یوں جیسے وہ چھپکلی ہوتی ہے تو پھر مجھے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ عویمر نے اس عورت کے بارے میں غلط بیانی کی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس عورت نے اس شکل و صورت کے بچے کو جنم دیا جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان کیا تھا کہ اس صورت میں عویمر کا سچ ہونا ثابت ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد اس بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4285]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4271»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1944 و 1946): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں