صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
20. باب اللعان - ذكر اسم هذا الملاعن امرأته اللذين ذكرناهما-
لعان کا بیان - اس ملاعن اور اس کی بیوی کے نام کا ذکر جن کا ہم نے ذکر کیا
حدیث نمبر: 4284
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلانِيَّ جَاءَ إِِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ: " أَرَأَيْتَ لَوَ أَنَّ رَجُلا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟". سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَأَلَ عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِِلَى أَهْلِهِ، جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا. فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلُهُ عَنْهَا. فَجَاءَ عُوَيْمِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا. فَقَالَ سَهْلٌ: فَتَلاعَنَا". وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاعُنِهِمَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی، سیدنا عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”اے عاصم! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے، تو کیا اگر وہ اسے قتل کر دے، تو آپ لوگ اسے (بدلے میں) قتل کر دیں گے؟ اس شخص کو کیا کرنا چاہیے۔ اے عاصم! آپ میرے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوعیت کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب قرار دیا۔ یہ بات سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ اپنے گھر واپس آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور پوچھا: ”اے عاصم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟“ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم میرے پاس بھلائی لے کر نہیں آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسند فرمایا جس کے بارے میں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا۔“ اس پر عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں باز نہیں آؤں گا جب تک میں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہ کر لوں۔“ پھر سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں حکم نازل ہو گیا ہے، تم جاؤ اور اسے لے آؤ۔“ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا، میں لوگوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ جب وہ دونوں لعان کر کے فارغ ہو گئے تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انہیں کچھ ہدایت کرنے سے پہلے ہی انہوں نے اس خاتون کو تین طلاقیں دے دیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4284]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 423، 4745، 4746، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1492، وابن الجارود فى "المنتقى"، 797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4283، 4284، 4285، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2066، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1555، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12616، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23266» «رقم طبعة با وزير 4270»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1942): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما