صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
23. باب اللعان - ذكر البيان بأن الزوجين إذا تلاعنا على حسب ما وصفناه لم يكن له السبيل عليها فيما بعد من أيامه-
لعان کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر شوہر اور بیوی ہمارے بیان کردہ طریقے سے لعان کریں تو اس کے بعد اسے اس پر کوئی راستہ نہیں
حدیث نمبر: 4287
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلاعِنَيْنِ:" حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ: " لا مَالَ لَكَ، إِِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ مَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے یہ فرمایا: ”تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے، تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے۔“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے فرمایا) ”تمہارا اس عورت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے مال (کا کیا بنے گا، جو میں نے اسے مہر کے طور پر دیا تھا)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں مال نہیں ملے گا، اگر تم نے اس پر سچا الزام لگایا ہے تو تم نے اس مال کے عوض میں اس عورت کی شرم گاہ کو اپنے لیے حلال کر لیا اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو پھر تو یہ اور زیادہ دور ہو جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4287]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4748، 5306، 5311، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1493، وابن الجارود فى "المنتقى"، 813، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4286، 4287، 4288، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3473، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2257، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1202، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2069، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1554، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3706، وأحمد فى (مسنده) برقم: 405» «رقم طبعة با وزير 4273»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1953): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما