صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
24. باب اللعان - ذكر البيان بأن ولد المتلاعنة يلحق بها بعد اللعان الواقع بينها وبين زوجها دون أن يلحق بزوجها-
لعان کا بیان - اس بات کا بیان کہ متلاعنہ کا بچہ لعان کے بعد اس سے ملحق ہوتا ہے، نہ کہ اس کے شوہر سے
حدیث نمبر: 4288
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ " رَجُلا لاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ لعان کیا اور اس عورت کے بچے (کے نسب کی) نفی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (میاں بیوی) کے درمیان علیحدگی کروا دی اور بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4288]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4748، 5306، 5311، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1493، وابن الجارود فى "المنتقى"، 813، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4286، 4287، 4288، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3473، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2257، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1202، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2069، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1554، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3706، وأحمد فى (مسنده) برقم: 405» «رقم طبعة با وزير 4274»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1955): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما