صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
28. باب العدة - ذكر وصف عدة المتوفى عنها زوجها-
عدت کا بیان - بیوہ عورت کی عدت کی تفصیل کا بیان
حدیث نمبر: 4292
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ بن أنس بن مالك ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانَ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا جَاءَتْ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا، حَتَّى إِِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِِلَى أَهْلِي، فَإِِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَنْزِلٍ يَمْلِكُهُ، وَلا نَفَقَةَ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ". فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، دَعَانِي أَوْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ قُلْتِ؟" قَالَتْ: فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، فَقَالَ:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ". قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِِلَيَّ، فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَاتَّبَعَهُ، وَقَضَى بِهِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. وَالْقَدُومُ: مَوْضِعٌ بِالْحِجَازِ، وَهُوَ الْمَوْضِعُ الَّذِي رُوِيَ فِي بَعْضُ الأَخْبَارِ: أَنَّ إِِبْرَاهِيمَ اخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ.
سیدہ زینب بنت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا جو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں انہوں نے ان کو بتایا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ وہ اپنے میکے بنو خدرہ میں منتقل ہو جائیں کیونکہ ان کا شوہر اپنے کچھ مفرور غلاموں کی تلاش میں نکلا تھا اور «طَرَفِ قَدُومٍ» ”طرفِ قدوم“ کے مقام پر اس نے ان غلاموں کو پکڑ لیا تھا اور ان غلاموں نے اسے قتل کر دیا تھا، وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ ”میں اپنے میکے واپس چلی جاتی ہوں کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے کوئی ایسا گھر نہیں چھوڑا جس کا وہ مالک ہو اور نہ ہی خرچ کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے“، وہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ٹھیک ہے“، میں وہاں سے روانہ ہوئی ابھی میں حجرے میں ہی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: مسجد میں تھی) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں حکم دیا) تو مجھے بلا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے کیا بیان کیا تھا؟“ وہ کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ بیان کیا جو میں نے اپنے شوہر کی صورت حال کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے گھر میں ٹھہری رہو جب تک تمہاری عدت پوری نہیں ہو جاتی“، وہ بیان کرتی ہیں، تو میں نے اس گھر میں چار ماہ دس دن تک عدت گزاری، وہ بیان کرتی ہیں: جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (کا عہد خلافت آیا) انہوں نے مجھے پیغام بھیجا اور مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے اس کی پیروی کی اور اس کے مطابق فیصلہ لیا، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت زہری کے حوالے سے امام مالک رحمہ اللہ نے نقل کی ہے اور «القَدُومُ» ”قدوم“ حجاز میں ایک جگہ کا نام ہے یہ وہ جگہ ہے، جس کے بارے میں بعض روایات میں یہ بات منقول ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے «القَدُومُ» ”قدوم“ کے مقام پر ختنہ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4292]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم:، وابن الجارود فى "المنتقى"، 820، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4292، 4293، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2849، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2300، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1204، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2031، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1365، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15593، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27729» «رقم طبعة با وزير 4278»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1992/ 2)، «الإرواء» (7/ 206 - 207).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح