صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
23. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام إعطاء أهل الشرك الهدايا إذا طمع في إسلامهم-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے اہلِ شرک کو ہدایا دینے کا جواز اگر ان کے اسلام لانے کی امید ہو۔
حدیث نمبر: 4503
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ حَتَّى جِئْنَا وَادِي الْقُرَى، فَإِِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ:" اخْرُصُوا". فَخَرَصَ الْقَوْمُ، وَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَرْأَةِ:" أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا حَتَّى أَرْجِعَ إِِلَيْكِ إِِنْ شَاءَ اللَّهُ". قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمَ تَبُوكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلا يَقُومَنَّ فِيهَا رَجُلٌ، وَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيُوثِقْ عِقَالَهُ". قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: فَعَقَلْنَاهَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ هَبَّتْ عَلَيْنَا رِيحٌ، فَقَامَ فِيهَا رَجُلٌ فَأَلْقَتْهُ فِي جَبَلِ طَيِّئٍ، ثُمَّ جَاءَهُ مَلَكُ أَيْلَةَ وَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَسَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا، وَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا وَادِي الْقُرَى، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: كَمْ جَاءَ حَدِيقَتُكِ؟ قَالَتْ: عَشْرَةُ أَوْسُقٍ، خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنِّي مُتَعَجِّلٌ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَفْعَلْ". قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِِذَا أَوْفَى عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" هَذِهِ طَابَةُ". فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا، قَالَ:" هَذَا أُحُدٌ، هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ؟" قَالُوا: بَلَى. قَالَ:" خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ" .
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم ایک وادی میں آئے وہاں ایک عورت کا باغ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: اس کی پیداوار کا اندازہ لگاؤ لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اندازہ لگایا اس کی پیداوار دس وسق ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: اس کی جو پیداوار ہو گی تم اسے شمار کر کے رکھنا اگر اللہ نے چاہا تو ہم واپسی پر تمہارے پاس آئیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک تشریف لے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات تم پر انتہائی تیز آندھی آئے گی تو اس آندھی کے دوران کوئی شخص کھڑا ہرگز نہ رہے جس شخص کے ساتھ اونٹ موجود ہے وہ اس کی رسی کو باندھ لے۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے انہیں باندھ لیا جب رات ہوئی تو تیز ہوا چلنا شروع ہو گئی ہم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا تو ہوا نے اسے اٹھا کر طے کے پہاڑ پر پھینک دیا پھر ایلہ (نامی جگہ) کا حکمران آیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر تحفے کے طور پر پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہننے کے لیے ایک چادر دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک تحریر لکھوا دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم اس وادی میں آئے (جہاں سے پہلے گزرے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جلدی سفر کرنا چاہتا ہوں تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی سفر کرنا چاہے وہ کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہوئے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ (یعنی مدینہ منورہ) طابہ (یعنی پاکیزہ) ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: یہ احد ہے یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں (بتائیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کا سب سے بہترین گھرانہ بنو نجار ہے پھر بنو عبداشہل ہے پھر بنو حارث کا گھرانہ ہے پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ ہے ویسے انصار کے تمام گھرانے بہترین ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4503]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4486»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (271): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين