🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْىِ إِلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز کے لیے مسجد چل کر جانے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 556
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ، أَعْظَمُ أَجْرًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسجد سے جتنا دور ہو گا اتنا ہی اس کا ثواب زیادہ ہو گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 556]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جتنا مسجد سے دور ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ ثواب کا حقدار ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تخريج: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 15 (782)، (تحفة الأشراف: 13597)، وقد أخرجہ: حم (2/351، 428) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: جو شخص جس قدر زیادہ قدم چل کر جائے گا اور مشقت برداشت کرے گا اس کو اسی قدر ثواب بھی زیادہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه أحمد (1/68 وسنده حسن) وله شاھد في صحيح مسلم (662)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 557
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَبَا عُثْمَانَ حَدَّثَهُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَبْعَدَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَةِ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي إِذَا رَجَعْتُ، فَقَالَ: أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ، أَنْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا احْتَسَبْتَ كُلَّهُ أَجْمَعَ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اہل مدینہ میں نمازیوں میں ایک صاحب تھے، میری نظر میں کسی کا مکان مسجد سے ان کے مکان سے زیادہ دور نہیں تھا، اس کے باوجود ان کی کوئی نماز جماعت سے ناغہ نہیں ہوتی تھی، میں نے ان سے کہا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیتے اور گرمی اور تاریکی میں اس پر سوار ہو کر (مسجد) آیا کرتے (تو زیادہ اچھا ہوتا) تو انہوں نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد کے بغل میں ہو، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میری غرض یہ تھی کہ مجھے مسجد آنے کا اور پھر لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس جانے کا ثواب ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ سب عنایت فرما دیا، اور جو کچھ تم نے چاہا، اللہ نے وہ سب تمہیں دے دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 557]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص تھا، جہاں تک میں جانتا ہوں، اہل مدینہ میں قبلہ رو ہو کر نماز پڑھنے والوں میں اس کا گھر سب سے دور تھا اور مسجد میں کوئی نماز بھی اس سے نہ چوکتی تھی۔ میں نے اس سے کہا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیں، گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہوں (تو سہولت رہے)۔ اس نے کہا: میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر مسجد کے قریب ہو۔ اس کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری نیت یہ ہے کہ میرا مسجد میں آنا اور یہاں سے گھر واپس جانا سب ہی لکھا جائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہیں یہ سب عطا فرما دیا۔ جس اجر و ثواب کی تو نے امید کی ہے اللہ نے وہ سب عنایت فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 49 (663)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 16 (783)، (تحفة الأشراف: 64)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 60 (1321) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (663)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 558
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى لَا يَنْصِبُهُ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کے لیے نکلے، تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے، اور جو چاشت کی نماز کے لیے نکلے اور اسی کی خاطر تکلیف برداشت کرتا ہو تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کے ثواب کی طرح ہے، اور ایک نماز سے لے کر دوسری نماز کے بیچ میں کوئی لغو کام نہ ہو تو وہ علیین ۱؎ میں لکھی جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 558]
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کے لیے نکلتا ہے تو اس کا اجر و ثواب ایسے ہے جیسے کہ حاجی احرام باندھے ہوئے ہو اور جو شخص چاشت کی نماز کے لیے نکلے اور اس مشقت یا اٹھ کھڑے ہونے کی غرض صرف یہی نماز ہو تو ایسے آدمی کا ثواب عمرہ کرنے والے کی مانند ہے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کہ ان دونوں کے درمیان کوئی لغو نہ ہو علیین میں اندراج کا باعث ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 4899)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/263، 268) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: علیین اللہ تعالی کے پاس ایک دفتر ہے جس میں نیک اعمال لکھے جاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (728)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 559
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وَذَلِكَ بِأَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَأَتَى الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ وَلَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، وَيَقُولُونَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ أَوْ يُحْدِثْ فِيهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی باجماعت نماز اس کے گھر یا بازار کی نماز سے پچیس درجہ بڑھ کر ہے، اور یہ اس وجہ سے کہ تم میں سے کوئی جب اچھی طرح وضو کر کے مسجد آئے اور نماز کے علاوہ کوئی اور چیز اس کے پیش نظر نہ رہی ہو تو وہ جو بھی قدم اٹھائے گا اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند ہو گا اور ایک گناہ معاف ہو گا، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے، پھر جب وہ مسجد میں پہنچ گیا تو نماز ہی میں رہا جب تک کہ نماز اسے روکے رہی، اور فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، (اور یہ دعا برابر کرتے رہتے ہیں) جب تک کہ اس مجلس میں (جہاں وہ بیٹھا ہے) کسی کو تکلیف نہ دے یا وضو نہ توڑ دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 559]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز گھر یا بازار میں اکیلے نماز (پڑھنے) کی بہ نسبت پچیس درجے زیادہ ہوتی ہے، وہ یوں کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور کامل اچھی طرح وضو کرے اور مسجد میں آئے اور اس کی نیت صرف نماز ہی ہو اور نماز ہی نے اسے اٹھایا ہو تو وہ جو قدم بھی اٹھائے گا اس سے اس کا ایک درجہ بلند ہو گا اور ایک غلطی معاف ہو گی حتیٰ کہ مسجد میں داخل ہو جائے، اور جب مسجد میں داخل ہو جائے تو وہ نماز میں شمار ہوتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھے، اور جب تک کوئی اپنی اس جگہ پر بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہو تو فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ» اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔ اور ان کی یہ دعا (اس وقت تک) جاری رہتی ہے جب تک کہ وہ وہاں کسی کو ایذا نہ دے یا بے وضو نہ ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 49 (649)، سنن الترمذی/الصلاة 47 (330)، سنن النسائی/الإمامة 42 (839)، سنن ابن ماجہ/المساجد 16 (786)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 1 (1، 2)، (تحفة الأشراف: 12502)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 87 (477)، مسند احمد (2 /252، 264، 266، 273، 328، 396، 454، 473، 475، 485، 486، 520، 525، 529)، سنن الدارمی/الصلاة 56 (1312، 1313) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (477) صحيح مسلم (649)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّلَاةُ فِي جَمَاعَةٍ تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلَاةً، فَإِذَا صَلَّاهَا فِي فَلَاةٍ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا بَلَغَتْ خَمْسِينَ صَلَاةً"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْفَلَاةِ تُضَاعَفُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي الْجَمَاعَةِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز (کا ثواب) پچیس نمازوں کے برابر ہے، اور جب اسے چٹیل میدان (بیابان میں) میں پڑھے اور رکوع و سجدہ اچھی طرح سے کرے تو اس کا ثواب پچاس نمازوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالواحد بن زیاد کی روایت میں یوں ہے: آدمی کی نماز چٹیل میدان میں (بیابان میں) باجماعت (شہر اور آبادی کے اندر) نماز سے ثواب میں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 560]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کے ساتھ نماز پچیس نمازوں کے برابر ہوتی ہے۔ اور جب کوئی شخص بیابان میں نماز پڑھتا ہے اور اس کے رکوع اور سجود کو کامل کرتا ہے تو اس کا ثواب پچاس نمازوں تک پہنچ جاتا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ عبدالواحد بن زیاد نے اس حدیث میں کہا: بیابان میں نماز (شہر اور آبادی کے اندر) جماعت کی نماز سے دوگنا ہوتی ہے۔ اور (عبدالواحد نے مکمل) حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المساجد 16 (788)، مسند احمد (3/55) (كلهم إلى قوله: ’’خمسا وعشرين صلاة‘‘)، (تحفة الأشراف: 4157)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 30 (646) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح خ الشطر الأول منه
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أبو معاوية الضرير صرح بالسماع عند ابن حبان (الإحسان: 1746)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں