صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
94. باب طاعة الأئمة - ذكر إثبات موت الجاهلية بالمفارق جماعة المسلمين-
ائمہ کی اطاعت کا بیان - مسلمانوں کی جماعت سے جدا ہونے والے کے لیے موتِ جاہلیت کے ثبوت کا بیان
حدیث نمبر: 4578
أَخْبَرَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَقَالَ: ضَعُوا لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِِنِّي لَمْ آتِ لأَجْلِسَ، إِِنَّمَا جِئْتُ لأُكَلِّمَكَ كَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَمْ تَكُنْ لَهُ حُجَّةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقَ الْجَمَاعَةِ، فَإِِنَّهُ يَمُوتُ مَوْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ" .
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ”حرہ“ کی راتوں میں ابن مطیع کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمن (یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کیلئے تکیہ لگاؤ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں یہاں بیٹھتے کیلئے نہیں آیا ہوں میں تمہارے ساتھ دو باتیں کرنے کیلئے آیا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص (حاکم وقت کی) اطاعت و فرمانبرداری سے ہاتھ کھینچ لے قیامت کے دن اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی اور جو شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہو کر مرے وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4578]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4559»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «ظلال الجنة» (1075 - 1076).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن