صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
127. باب فضل الجهاد - ذكر وصف الدرجات للمجاهدين في سبيل الله-
جہاد کے فضائل کا بیان - اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے درجات کا بیان
حدیث نمبر: 4611
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ، بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَإِِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَهُوَ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَهُوَ أَعْلَى الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ الْعَرْشُ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهُوَ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ، يُرِيدُ بِهِ أَنَّ الْفِرْدَوْسَ فِي وَسَطِ الْجِنَّانِ، فِي الْعَرْضِ، وَقَوْلُهُ: وَهُوَ أَعْلَى الْجَنَّةِ، يُرِيدُ بِهِ: فِي الارْتِفَاعِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک جنت میں ایک سو درجے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے، ان میں سے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، تو جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو کیونکہ یہ درمیانے درجے کی جنت ہے اور وہ اعلیٰ درجے کی جنت ہے اور اس کے اوپر عرش ہے اور جنت کی تمام نہریں اسی سے پھوٹتی ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”وہ درمیانے درجے کی جنت ہے“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے فردوس جنت کے درمیان میں ہے، یعنی چوڑائی کے حوالے سے درمیان میں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”وہ جنت سب سے بلند درجہ ہے“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: بلند ہونے کے اعتبار سے (وہ سب سے اوپر ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4611]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2790، 7423، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1747، 4611، 7390، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 267، 268، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17839، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8535» «رقم طبعة با وزير 4592»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (921)، «المشكاة» (5617): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null